
Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out this form.
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
درد پھولوں کی طرح مہکیں، اگر تُو آئے
بھیگ جاتی ہیں اس امید پر آنکھیں ہر شام
شاید اس رات وہ مہتاب، لبِ جُو آئے
ہم تیری یاد سے کترا کے گزر جاتے، مگر
راہ میں پھولوں کے لب، سایوں کے گیسو آئے
وہی لب تشنگی اپنی، وہی ترغیبِ سراب
دشتِ معلوم کی، ہم آخری حد چھو آئے
سینے ویران ہوئے، انجمن آباد رہی
کتنے گل چہرے گئے، کتنے پری رُو آئے
آزمائش کی گھڑی سے گزر آئے تو ضیا
جشنِ غم جاری ہوا، آنکھ میں آنسو آئے
(ضیا جالندھری)عمدہ اور خوب صور ت انتخاب
There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)




Reply With Quote
Bookmarks