Originally Posted by intelligent086 جب کبھی چھیڑا جنوں نے دیدۂ خوں بار کو بھر دیا پھولوں سے ہم نے دامن ِکہسار کو ٹھیس لگ جائے نہ اُن کی حسرتِ دیدار کو اے ہجومِ غم! سنبھلنے دے ذرا بیمار کو فکر ہے زاہد کو حور و کوثر و تسنیم کی اور ہم جنت سمجھتے ہیں ترے دیدار کو دیکھنے والے نگاہِ مست ساقی کی کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں ساغرِ سرشار کو ہر قدم پر، ہر روش پر، ہر ادا پر، ہر جگہ دیکھنا پڑتا ہے انداز، نگاہِ یار کو لاکھ سمجھایا جگر کو، ایک بھی مانی نہ بات دھُن لگی تھی کوچۂ قاتل کی میرے یار کو ٭٭٭ Nice Sharing ..... Thanks
Originally Posted by Dr Danish Nice Sharing ..... Thanks
There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)
Forum Rules
Bookmarks