میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں
جب بھی آؤں تری محفل سے اٹھایا جاؤں
ایک ٹوٹا ہوا پتّہ ہوں ٹھکانہ معلوم
جانے کب تک میں فضاؤں میں اڑایا جاؤں
میری تخلیق کا مقصود یہی ہے شاید
آسمانوں سے زمینوں پہ گرایا جاؤں
پھر کوئی موت کی لوری کوئی الجھا ہوا گیت
میں بہت دیر کا جاگا ہوں سلایا جاؤں
اتنا بیزار نہ ہو مجھ سے کہ وہ تارا ہوں
شاخِ مژگاں پہ سرِ شام سجایا جاؤں
جانے کس جرم کی پاداش میں ہر روزصبا
ہائے حالات کی سولی پہ چڑھایا جاؤں



Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out



Reply With Quote
Bookmarks