کس انوکھے دشت میں ہوائے غزالان ختن
یاد آتا ہے تمہیں بھی اب کبھی اپنا وطن

خوں رلاتی ہے مجھے اک اجنبی چہرے کی یاد
رات دن رہتا ہے آنکھوں میں وہی لعل یمن

عطر میں ڈوبی ہوئی کوئے جاناں کی ہوا
آہ اُس کا پیراہن اور اس کا صندل سا بدن

رات اب ڈھلنے لگی ہے بستیاں خاموش ہیں
تو مجھے سونے نہیں دیتی مرے جی کی جلن

یہ بھبھوکا لال مکھ ہے اس پرہ وش کا منیر
یا شعاعِ ماہ سے روشن گلابوں کا چمن
٭٭٭