کا نقصان oh no
خطیب احمد

اُونہہ ایک انگریزی لفظ ہے جو پریشانی کے عالم میں حالات سے اکتاہت کا شکار ہونے کے بعد بولا جاتا ہے۔ عمومی طور پر آج کل کی نئی نسل اِس لفظ کا استعمال کرتی ہے۔ لڑکیوں کو دیکھیں تو، سب سے زیادہ اُونہہ کا استعمال اُن میں ہی پایا جاتا ہے۔ جہاں خراب سیلفی آئی یا اچھی سیلفی ڈِلیٹ ہوگئی، تو زبان سے صرف ایک لفظ اُونہہ نِکلاتا ہے۔
طالب عِلموں کو ہی دیکھ لیں، پورا سال کھیل کود میں گزارکر اِمتحان کا وقت قریب آنے پر ڈیٹ شِیٹ نوٹس بورڈ پر لگی دیکھتے ہیں تو بس یہی کہتے ہیں اُونہہ ۔ مگر پھر بھی یہ کہہ کر دل کو تسلی دیتے ہیں کہ بھئی کل سے پڑھونگا ۔ وقت گزرتا جاتا ہے مگرپڑھنے والی کل نہیں آتی ! ۔ایسے میں جب امتحان کے نَتائج آتے ہیں تو دیکھ کر بے ساختہ یہی کہا جاتا ہے کہ اُونہہ فیل ہوگیا۔ یہ اُونہہ بہت ہی با معنی ہےجو ہر موڑ پر بولی جاتی ہے۔ پڑھ کر کیا کریں گے، باپ کا کاروبار ہے وہی سنبھال لیں گے۔ اِنٹر ہوگیا تو ٹھیک ہےوگرنہ ولایت جانے کا موقع تو مل ہی جائے گا۔ وہاں کسی لڑکی سے شادی کرکے سُکون کی زندگی گزاریں گے۔
فیل ہونی کی خَبر جب ماں باپ تک پہنچتی ہے تو اِن کی زبان سے بھی اُونہہ ہی نِکلتا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اِن کا دِل ٹوٹ گیا ہے۔ صاحبزادے کی تعلیم پر کثیر رقم بھی خَرچ کر دی لیکن نتیجہ صِفر آیا۔لہذا اب تعلیم کا خاتمہ بالخیر کر کے، چلو بیٹا کل سے مِکینک کی دُکان پر لگ جاؤ،بہتر ہوگا۔ خوامخواه ہم بھی اپنی جان ہلکان کریں۔ ہُنر ہاتھ میں ہوگا، تو بھوکے نہیں مَرو گے۔
جامعہ میں بھی کچھ ایسے نِکمے طالب عِلم ہوتے ہیںجو کبھی لائبریری میں تو نظر نہیں آتے، البتہ کینٹین میں بیٹھ کر اپنا سارا وقت گپے ہانکنے میں ضائع کرتے ہیں۔ ایسے طلبہ سارا دِن یہاں سے وہاں مَٹر گشیاں کرتے ہوئے ہی نظر آتے ہیں۔ جب استاد اَسائمِنٹ دیتے ہیں تو اِن کی زبان پر ایک ہی لفظ آتا ہے ، وہی اُونہہ اور پھر منہ ٹیڑھا کر کے کہتے ہیں یہ بھی کرنا ہوگا؟۔ پھر یہ لائبریری کے چَکر لگاتے ہیں، کِتابیں چھانٹتے ہیں۔ بے تحاشہ چھان پھٹک کے بعدبھی جب کچھ نہیں ملتا تو کہتے ہیں اُونہہ کیا کریں؟۔ پھر یہ ایک دوسرے سے مانگ تانگ کر اپنا اَسائمِنٹ جیسے تیسے مکمل کر لیتے ہیں۔
ویسے تو ہر بچہ اپنے ماں باپ کی نظر میں نا لائق ہوتا ہے۔ اب چاہے وہ کتنے بھی اچھے کام کر لے، شاید والدین اپنے بچوں کی اِن کے مُنہ پر تعریف اِس لیے نہیں کرتے کہیں یہ طُرم خان بن کے سِینہ چوڑا کر کے نہ چلنے لگے۔ لیکن بعض مرتبہ والدین کو عِلم نہیں ہوتا کہ اِن کا بچہ کیا گُل کھلا رہا ہے۔ کچھ طلبہ ایسے بھی ہیں، جو پورے سیمسٹر نہیں پڑھتے۔ ایسے میں جُوں جُوں امتحان قریب آتے ہیں تو کہتے ہیں اُونہہ یار اتنی جلدی آگئے؟ پورا سیمسٹرپڑھا نہیں، یہاں وہاں مٹر گشیاں کر کے گذار دیا، ایسے میں جو لفظ دکھ کے ساتھ ادا کیاجاتا ہے وہ یہیاُونہہ ہی ہوتا ہے کااور بے بسی کا اظہار ان الفاظ میں کیاجاتا ہےکہ یار میڈیم نے اتنا پڑھا دیا ہے، کیسے یاد کریں گے؟
میرے ایک دوست ہیں، وہ بڑے جلد باز اِنسان ہیں اور ہر مرتبہ جلد بازی کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ ہماری میڈم نے کہا کہ آپ لوگ اپنا اَسائمِنٹ میرے آفس میں دے دیجیئے گا اب ہوا یوں کہ موصوف نے ہڑبڑاہٹ اور جلد بازی کےمارے اِن کے آفس کے بجائے برابر والے آفس میں اسائنمنٹ جمع کروادیا ۔ جب دوسرے طلبہ سے معلوم ہواکہ وہ والے آفس میں نہیں دینا تھا، تو انھوں نے اپنا سَر پکڑ کے بیزاری سے کہا اُونہہ یہ کیا کر دیا۔
قابل غور بات ہے کہ نتائج جو بھی برآمد ہوں،ہر دو صورت میں اُونہہ ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ دراصل اِس لفظ کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ وقت کی بے قدری کر رہے ہیں اور کام سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ میری تو بَس اُونہہ کرنے والوں سے یہ ہی گذارش ہے ہر کام خلوص نِیت کے ساتھ کریں نہیںتو اِن کا اللہ ہی مالک ہے۔