رضوان احمد
قائداعظمؒ کے آباواجداد کا وطن کاٹھیاواڑ برصغیر کے جنوب مغربی ساحل پر واقع سب سے بڑا جزیرہ نما ہے۔ پرانی تاریخوں میں اس علاقہ کا نام آنرت لکھا ہے۔ اسی جزیرہ نما کو سورٹھ، سوراشٹر اور کاٹھی واڑ بھی کہتے ہیں۔ اس علاقہ میں وہ کاشت کار آباد ہوئے جو کاٹھی کہلاتے تھے۔ اسی مناسبت سے اس کو کاٹھیوں کی کھیتی یعنی کاٹھی واڑ کہا جانے لگا جو عام بول چال میں کاٹھیاواڑ ہو گیا۔ اس جزیرہ نما کے شمال مغرب میں خلیج کَچھ، مغرب میں بحیرہ عرب، جنوب مشرق میں خلیج کھمبایت جسے کیمبے بھی کہتے ہیں اور مشرق میں گجرات ہے۔ جزیرہ نما کاٹھیاواڑ قیام پاکستان تک تقریباً دو سو چھوٹی بڑی ریاستوں کا مجموعہ تھا۔ ان میں ریاست جونا گڑھ بڑی تھی۔ مانگرول، راجکوٹ، گونڈل، جام نگر، وانکانیر، پُور بندر، پالن پور اور راج پیپلا وغیرہ کے نام نمایاں تو تھے مگر یہ نسبتاً چھوٹی ریاستیں تھیں۔ اس کے علاوہ ایسے تعلقے بھی تھے جو بڑی ریاستوں کے باج گزار تھے مگر ریاست ہی کہلاتے تھے۔ اگر کاٹھیاواڑ ریاستوں کا جھرمٹ تھا تو اس کی ہر ریاست مختلف ذاتوں، نسلوں اور قومیتوں کا گہوارہ تھی۔ ان میں گونڈ، بھیل، کاٹھی، کالی پرچ، برہمن، راجپوت، رباڑی، کول، گراسیہ، سید، شیخ، مغل پٹھان، میمن، خوجہ، بوہری، عرب، حبشی، مکرانی، بلوچ، لوہانہ، بنیے، کنبی، کاستھ، پرمار اور واگری وغیرہ سبھی موجود تھے اور ان ریاستوں پر مختلف نسلوں اور ذاتوں کے مسلم اور غیرمسلم خاندان حکمران تھے۔ کاٹھیاواڑ ہمیشہ سے ایک سرسبز و شاداب اور زرخیر علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگوں کا عام رجحان زراعت، تجارت اور صنعت و حرفت کی طرف رہا ہے۔ اس علاقہ میں بہت سی چھوٹی چھوٹی قدرتی بندرگاہیں موجود ہیں جن میں زمانہ قدیم سے بادبانی کشتیاں آتی، سامان تجارت لاتی اور لے جاتی رہی ہیں۔ اس طرح کاٹھیاواڑکا دور دراز کے ممالک سے تجارتی رابطہ صدیوں پرانا ہے، لیکن برصغیر میںجیسے جیسے انگریزوں کا اقتدار بڑھا یہ چھوٹی چھوٹی بندرگاہیں بند ہوتی چلی گئیں۔ انگریزوں نے ممبئی، کولکتہ اور مدراس کی بندرگاہوں کو جو ان کے قبضہ میں تھیں، فروغ دیا اور 1843ء میں جب کراچی پر انگریزوں کا قبضہ ہوا تو ان نئی ترقی پانے والی بندرگاہوں میں کراچی کی بندرگاہ بھی شامل ہو گئی۔ انیسویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کی حکومت پر زوال آیا۔ اہل ملک گروہ بندیوں میں بٹ کر باہم برسرپیکار ہو گئے۔ انگریزوں (ایسٹ انڈیا کمپنی) کا جذبۂ ملک گیری تیز سے تیز تر ہوا۔ سازشیں ہوئیں، انتشار پھیلا اور لڑائیوں پر لڑائیاں ہونے لگیں۔ برصغیر میں سیاسی، سماجی، معاشی اور تجارتی تغیرات تیزی سے رونما ہوئے۔ انگریزوں کا عمل دخل ریاستوں میں بڑھا، سکون درہم برہم ہوا، قحط پر قحط پڑے اور لوگوں کی زندگی تلخ ہو گئی۔ ان علاقوں میں اس دوران پھروچ اور ٹنکاری کے علاقے میں 1838ئ، 1840ئ، 1868ئ، 1878ئ،1896ء میں، کھیڑا اور پنج محال یعنی پادا گڑھ، گودھرا، ٹودا وغیرہ میں 1845ئ، 1853ئ، 1857ئ، 1861ئ، 1864ئ، 1877ء اور 1899ء میں پے بہ پے قحط زدہ رہے۔ اس قحط کی دو تین وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ بارش کی کمی، جنگ آزادی کے اثرات، حکومت کی بدانتظامی اور ناکام حکمت عملی کی بنا پر اشیائے صرف کی مصنوعی کمی اور گرانی قحط کی سنگینی کا یہ عالم تھا کہ 1856ء کے قحط میں صرف ضلع سورت میں بھوک سے مرنے والوں کی تعداد 30ہزار تھی۔ 1856ء اور 1899ء کے قحط بے انتہا شدید تھے اور درمیانی سال بھی کچھ کم المناک نہ تھے، خصوصاً 1861ء کا قحط مسلسل قحط کے ساتھ انیسویں صدی کے تیسرے عشرہ سے ملک کے سیاسی حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ 1857ء میں اہل ہند نے آخری سنبھالا لیا۔ جنگ آزادی کے شعلے بھڑکے، مگر اس کا خاتمہ ناکامی پر ہوا اور سارے برصغیر پر انگریز قابض ہو گئے اور ریاستیں بھی انگریزوں کے رحم و کرم پر زندہ تھیں۔ ان حالات میں لوگ اپنی اپنی بستیوں، قصبوں، شہروں اور ریاستوں کو چھوڑ کر جدھر سکون ملنے کی آس بندھی نکلنے لگے۔ اسی افراتفری میں پونجا میگھ جی، قائداعظمؒ کے دادا، بال بچوں کے تحفظ، کاروبار کی جستجو اور سکون کی تلاش میں اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے۔ پونجا میگھ جی کاٹھیاواڑی تو تھے لیکن ان کا تعلق کس ریاست، شہر یا گاؤں سے تھا، اس کے متعلق بہت سی باتیں کہی گئی ہیں۔ کسی نے ان کو راج کوٹ کا باشندہ بتایا، کسی نے گونڈل اسٹیٹ کے گاؤں راج کوٹ کے پاس پانیلی بتایا ہے اور کسی نے ہویانی۔ دراصل قائداعظمؒ کا گاؤں پانیلی تھا جو گونڈل اسٹیٹ میں واقع ہے۔ ٭٭٭