جرم کی کہانی
از شاہد بھائیقسط نمبر -5دفتر میں اُن کی ایم اے جیسوال سے کافی لمبی جھڑپ ہوئی۔ وہ اُنہیں پہلے سے ہی اپنے کیس جیتنے کی خوشی میں مٹھائی کھلانے آگیا تھا۔ایم اے جیسوال کا خیال تھا کہ شہباز احمد نے مجید کا کیس لے کر بہت بڑی غلطی کی ہے ۔ ایل ایل بی شہباز احمد آخر تک مسکراتے رہے اور پھر اُسے مسکراتے ہوئے رخصت کر دیا۔ اِس طرح یہ دن بھی گزر گیا اور وہ کوئی خاص بات معلوم نہ کر سکے البتہ شہباز احمد سب انسپکٹر تنویر کو کچھ ہدایات دیتے رہے تھے۔ اگلے دن عدالت پہنچنے میں اُنہیں دیر نہ لگی۔ عدالت کے دروازے پر ایم اے جیسوال اُن کا منتظر تھا۔
پانچ منٹ میں یہ کیس جیت جاؤں گا ۔۔۔ صرف پانچ منٹ میں ۔ ایم اے جیسوال مسکرا کر بولا۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ اچھا ہی ہے عدالت کا وقت بچ جائے گا ۔ شہباز احمد بدستور مسکراتے ہوئے بولے اور عدالت میں داخل ہو گئے۔ عدالت میں کرسیوں پر اِس کیس کے متعلقہ تمام لوگ موجود تھے۔اِن میں سیٹھ افتخار عالم کی سارے رشتہ دار بھی شامل تھے ۔ ایک طرف ایل ایل بی شہباز احمد کے بچے بھی بیٹھے تھے۔ وہ بھی آج پہلی مرتبہ عدالت آگئے تھے ۔ شہباز احمد وکیل والی کرسی پر بیٹھ گئے اور ایک بار پھر کیس کی فائل پڑھنے لگے ۔ تبھی ایک آواز نے اْنہیں چونکا دیا۔
ہوشیار ۔۔۔ خبردار ۔۔۔ جج صاحب تشریف لا رہے ہیں ۔ یہ آوازجج کی کرسی کے دائیں بائیں کھڑے باوردی آدمیوں کی تھی۔پھر سب کھڑے ہوگئے البتہ شہباز احمد نے کھڑے ہونے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ وہ جانتے تھے کہ رسو ل اکرم ﷺ نے تعظیم کے طور پر کھڑے ہونے سے منع فرمایا ہے ۔ جج صاحب نے بھی یہ بات محسوس کر لی اورمسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ وہ ایل ایل بی شہباز کو اچھی طرح جانتے تھے اور کئی کیسوں میں اُن کا وکیل شہباز احمد سے آمنا سامنا ہوا تھا۔ وہ اُن کی اِس عادت سے باخوبی واقف تھے۔ جج صاحب اپنی کرسی پر بیٹھ گئے اور پھر بارعب آواز میں مخاطب ہوئے۔
کیس کی کروائی شروع کی جائے ۔ سب چونکنے ہو کر بیٹھ گئے ۔
رات سنسان تھی ۔ ایڈوکیٹ ایم اے جیسوال نے کہنا شروع کیا ۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا اور ایسے میں میرے قابل دوست شہباز احمد کے مؤکل مجید کو اپنے باپ اشفاق صاحب کا اُپریشن کروانا تھا ۔۔۔ اْن کے باپ کو کینسر کا مرض لا حق تھا ۔۔۔ پیسے جمع کرنے کے لئے ڈاکٹروں نے صرف رات تک کا وقت دیا تھا۔۔۔ مجید پریشان تھا کہ رات تک وہ پچیس لاکھ روپے کیسے جمع کرئے گا۔۔۔ اِس پریشانی میں وہ ایک جرم کر بیٹھا ۔ ایم اے جیسوال نے اتنا ہی کہا تھا کہ شہباز احمد اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔
میں اعتراض کرتا ہوں جج صاحب ۔۔۔ یہ عدالت ہے کوئی بچوں کے کھیل کود کی جگہ نہیں جہاں میرے قابل دوست جیسوال صاحب بچوں کی طرح ہمیں کہانی سنا رہے ہیں ۔شہباز احمد بولتے چلے گئے۔
اعتراض مسترد کیا جاتا ہے ۔۔۔ عدالت یہ کہانی سننا پسندکرئے گی ۔ جج صاحب نے بارعب لہجے میں کہا جس پر ایم اے جیسوال کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
شکریہ جج صاحب ۔۔۔ تشریف رکھئے شہباز صاحب ۔۔۔ آپ کی باری بھی آئے گی۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ مجید صاحب ایک جرم کر بیٹھے۔۔۔اُنہیں پیسے جمع کرنے کے لئے کوئی راستہ دکھائی نہ دیا تو وہ شہرکے مشہور رئیس افتخار عالم کے پاس گئے ۔۔۔ اْن سے پیسوں کا مطالبہ کیا لیکن اُنہیں نے صاف انکار کر دیا۔۔۔ سیٹھ افتخار عالم کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ غریبوں کی دل کھول کر مدد کرتے تھے لیکن جب اُنہیں نے مجید کو پیسے دینے سے انکار کر دیا تو مجید کا دماغ گرم ہوگیا۔۔۔ اُسے یہ راستہ بھی بند ہو تا نظر آیا۔۔۔ غصے میں آکر اُس نے کمرے میں رکھا پھل کاٹنے کا چاقو اْٹھایا اور سیٹھ افتخار کے سینے پر گھونپ دیا۔۔۔اُن کے منہ سے ایک دل دوز چیخ نکلی جس پر سبھی گھر والے باہر سے دوڑے آئے ۔۔۔ سیٹھ افتخار تنہائی پسند کرتے تھے اِس لئے اُن کے کمرے میں کوئی بلا ضرورت نہیں آتا تھا۔۔۔ مجید گھر والوں کو دیکھ کر بوکھلا گیا لیکن فرار نہ ہو سکا۔۔۔ اُس وقت وہاں سیٹھ صاحب کے بھائی جمیل صاحب۔۔۔اُن کی بیگم ، اُن کے دو معصوم بچے عبدالرحمان اور عمر اور اِس کے علاوہ اُن کا گھریلو ملازم شرفو وہاں موجود تھا ۔۔۔ اُن سب نے مجید کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیااور پھر سب انسپکٹر تنویر کو فون کرکے اُسے گرفتار کر وا دیا۔۔۔ یہ ہے کل کہانی ۔ یہاں تک کہہ ایم اے جیسوال خاموش ہوگیا۔
چاقو کے دستے پر کس کے انگلیوں کے نشان ملے ہیں جیسوال صاحب ۔ شہباز احمد نے اْٹھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
افسوس ۔۔۔ مجید نے گھر والوں کے کمرے میں آنے سے پہلے ہی چاقو پرسے انگلیوں کے نشان صاف کر دئیے تھے ۔ جیسوال نے سرد آہ بھری۔
یعنی کے آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ شہباز احمد نے مسکر ا کہا۔
ثبوت نہیں تو کیا ہوا میرے پاس گواہ موجود ہیں ۔ جیسوال جلدی سے بولا۔
آپ کے گواہوں کو میں ایک ایک کر کے جج صاحب کے سامنے پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا ۔ یہ کہتے ہوئے ایل ایل بی شہباز نے جج صاحب کی طرف دیکھا۔
اجازت ہے ۔ جج صاحب باآواز بلند بولے۔ دوسرے ہی لمحے کٹہرے میں سب سے پہلے سیٹھ افتخا ر کا بھائی جمیل پیش ہوا۔ اُس سے قسم لی گئی اور پھر شہباز احمد اُس کی طرف بڑھے۔
تو آپ نے مجید کو رنگے ہاتھوں پکڑا ۔ شہباز احمد عجیب سے لہجے میں بولے۔
جی ہاں ۔۔۔ یہ سچ ہے ۔ جمیل مستحکم لہجے میں بولا۔
تو کیا آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ میرے مؤکل مجید سیٹھ صاحب کو قتل کر رہے تھے ۔ شہباز احمد نے اْسے گھورا۔
جج ۔۔۔ جج ۔۔۔جی نہیں ۔۔۔ لیکن ۔ جمیل نے کچھ بولنا چاہا لیکن شہباز احمد نے اْس کی بات کاٹ دی۔
بس اب آپ جا سکتے ہیں ۔ شہباز احمد مسکراکر بولے جس پر جمیل برے برے منہ بناتا ہوا اپنے کرسی پر جا بیٹھا۔
اب میں سیٹھ صاحب کی بیگم کو کٹہرے میں بلانا کی اجازت چاہتا ہوں ۔ شہباز احمد بلند آواز میں بولے۔
اجازت ہے ۔ جج صاحب نے کہا۔ایل ایل بی شہباز احمد نے بیگم افتخار سے بھی وہی سوال کیا جو جمیل سے کیا تھا اور اُس نے بھی وہی جواب دیا۔ ابھی وہ آگے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن شہباز احمد نے اُسے روک دیا اور وہ واپس اپنی سیٹ پر جا بیٹھی۔ اِسی طرح سیٹھ صاحب کے ملازم نے بھی یہی جواب دیا۔ آخر میں سیٹھ صاحب کے دو نو عمر بچوں کو بلایا گیا۔ اُن سے شہباز احمد نے قدرے نرمی سے بات کی لیکن جواب اْن کا بھی وہی تھا کہ اْنہیں نے مجید کو قتل کرتے نہیں دیکھا۔ اب ایل ایل بی شہباز جج صاحب کی طرف متوجہ ہوئے۔
جج صاحب ۔۔۔ تو یہ تھے جیسوال صاحب کے گواہ جن میں سے کسی ایک نے بھی قتل ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔ آخر ہم کیسے مان لیں کہ مجید ہی گناہ گار ہے ۔ شہباز احمد کی آواز میں ٹھہراؤ تھا۔
ہمیں سچ کو ماننا ہی پڑے گا شہباز صاحب ۔۔۔ گواہوں نے مجید کو وہاں موجود پایا تھا اور اُس وقت سیٹھ صاحب تڑپ رہے تھے ۔۔۔ اگر وہ اُس وقت مر چکے ہوتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ کسی نے مجید کے خلاف سازش کی ہے اور جب مجید کمرے میں داخل ہوا تو اُس وقت قتل کیا جا چکا تھا لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے ۔۔۔ اُس چاقو کو سینے پر دستے تک گھونپ دیا گیا تھا۔۔۔ اِس کے بعد انسان صرف دو منٹ تک زندہ رہ سکتا ہے کیونکہ وہ ٹھیک دل کی نالیوں کے قریب گھونپا گیا تھا۔۔۔جب گھر والے داخل ہوئے تو سیٹھ صاحب تڑپ رہے تھے اور گھر والوں کے کمرے میں داخل ہونے کے ٹھیک ایک منٹ بعد سیٹھ صاحب نے دم توڑا۔۔۔ یہ بیان اْنہیں نے ریکارڈ کروایا ہے ۔۔۔یعنی گھر والوں کے کمرے میں داخل ہونے سے ایک منٹ پہلے کسی نے وہ چاقو سیٹھ صاحب کے سینے پر اتارا۔۔۔ اب آپ کی بات مانی جائے تو ایک منٹ پہلے وہ چاقو مارا گیا اور پھر چاقو مارنے کے ٹھیک ایک منٹ بعد مجید کمرے میں داخل ہوا۔۔۔اْس وقت تک قاتل رخصت ہو چکا تھا اور اپنے انگلیوں کے نشان بھی چاقو پر سے مٹا چکا تھا۔۔۔ مجید کے کمرے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی گھروالے بھی داخل ہوگئے ۔۔۔لیکن گھر والوں کا بیان ہے کہ اْنہیں نے وہاں مجید کو موجود پایا۔۔۔خود مجید نے یہ بیان ریکارڈ کروایا ہے کہ اُس کے کمرے میں داخل ہونے کے ایک منٹ بعد گھروالے وہاں آئے۔۔۔اب اگر مجید کی بات مان لی جائے تو دو منٹ پہلے قاتل نے چاقو مارا اور اْس کے ایک منٹ بعدگھروالے وہاں پہنچ گئے ۔۔۔ اور گھر والوں کے پہنچے کے ایک منٹ بعد سیٹھ صاحب نے دم توڑ دیا۔۔۔ یعنی قاتل گھر والو ں کے کمرے میں آنے سے ایک منٹ پہلے وہاں موجود تھا۔۔۔ لیکن ایک منٹ پہلے تو مجید موجود تھا ۔۔۔ یعنی کے قاتل مجید ہے ۔یہاں تک کہہ کر جیسوال خاموش ہوگیا۔ ایک لمحے کے لئے شہباز احمد چکرا کر رہ گئے۔ جیسوال کی دلیلوں میں مضبوطی تھی جبکہ شہباز احمد کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کیونکہ یہ بیان خود مجید کا تھا کہ اْس کے کمرے میں آنے کے ایک منٹ بعد گھر والے وہاں آئے اور گھر والوں کے آنے کے ایک منٹ بعد مقتول نے دم توڑ دیا۔ وہ چاقو دل کی نالیوں کے قریب گھونپا گیا تھا اِس لئے سیٹھ صاحب چاقو لگنے کے بعد صرف دو منٹ ہی زندہ رہ سکتے تھے۔ ایک اور بات بھی حیرت انگیز تھی کہ قاتل اس قدر جلدی وہاں سے رخصت کیسے ہوگیا اور وہ بھی اپنے انگلیوں کے نشان مٹا کر ۔ یہ بات ماننا بہت مشکل تھا۔ شہباز احمد دم بخود رہ گئے۔ دوسری طرف جیسوال کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی۔
٭٭٭٭٭
باقی آئندہ
٭٭٭٭٭



Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out

Reply With Quote
Bookmarks