google.com, pub-2879905008558087, DIRECT, f08c47fec0942fa0
  • You have 1 new Private Message Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out this form.
    + Reply to Thread
    + Post New Thread
    Results 1 to 7 of 7

    Thread: Jurm Ki Kahani - Suspense Full Novel - Written By Shahid Bhai

    Threaded View

    1. #3
      New Member Shahid Bhai's Avatar
      Join Date
      Apr 2017
      Posts
      19
      Threads
      3
      Thanks
      2
      Thanked 10 Times in 8 Posts
      Mentioned
      1 Post(s)
      Tagged
      0 Thread(s)
      Rep Power
      0

      Re: Jurm Ki Kahani - Suspense Full Novel - Written By Shahid Bhai

      جرم کی کہانی
      از شاہد بھائی
      قسط نمبر - 3


      مجید کے والد اشفاق احمد کی سانسیں مدھم پڑتی جارہی تھیں۔ دوسری طرف مجید حوالات کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا ہاتھ مل رہا تھا۔ایسے میں اْس کی بیوی تھانے میں داخل ہوئی۔اِس وقت تھانے میں سب انسپکٹر تنویر ہی بیٹھا تھا۔ مجید کی بیوی کو دیکھ کر وہ چونک اْٹھا۔
      فرمائیے ۔۔۔ محترمہ میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں ۔ سب انسپکٹر تنویر غوری نے چونک کر کہا۔
      میرے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔۔۔ میں پوچھتی ہوں کس جرم میں ۔۔۔ آخر اْن کا گناہ کیا ہے ۔ مجید کی بیوی روتی ہوئی بولی۔
      پہلے آپ اپنا نام بتانا پسند کریں گی ۔ سب انسپکٹر تنویر نے جھلا کر کہا۔
      میں ریشم ممتاز ہوں ۔ مجید کی بیوی نے اپنا نام بتایا۔
      تو سنیے ریشم صاحبہ ۔۔۔ آپ کے شوہر رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں ۔۔۔ اِنہیں سیٹھ افتخار عالم کے قتل کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ سب انسپکٹر تنویر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
      لیکن میرے شوہر کسی کا قتل نہیں کر سکتے ۔۔۔ وہ تو اپنے والد صاحب کے اْپریشن کے لئے پیسے جمع کرنے میں لگے ہوئے تھے ۔ مجید کی بیوی ریشم ممتاز نے بوکھلا کر کہا۔
      میرا آپ کو ایک مشورہ ہے ۔۔۔کل تک آپ کو عدالت کا صمن مل جائے گا۔۔۔ میرے پاس وقت ضائع کرنے کے بجائے کسی اچھے سے وکیل کے پاس جائیں کیونکہ میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ سب انسپکٹر تنویر نے ہاتھ کھڑے کر دئیے جس پر ریشم ممتاز اْسے گھور کر دیکھتی ہوئی تھانے سے نکل گئی۔ تھانے سے نکلتے ہی وہ سیدھا اپنی سہیلی بیگم عبدالباسط کے گھر کی طرف روانہ ہوگئی ۔ وہ آئی جی عبدالباسط کو اچھی طرح جانتی تھی۔ آئی جی عبدالباسط کے گھر پہنچ کر اْس نے دروازے پر دستک دی ۔ دوسرے ہی لمحے دروازہ کھل گیا۔سامنے بیگم عبدالباسط کھڑی تھیں۔
      ارے ریشم ۔۔۔ تم یہاں کیسے ۔ بیگم عبدالباسط حیران ہو کر بولیں۔
      بھائی صاحب گھر پر ہیں ۔ ریشم ممتاز نے جلدی سے کہا۔
      وہ تو صدر مملکت کے پاس ہیں ۔۔۔ صدر مملکت نے انہیں فوراً طلب کیا ہے۔۔۔اس لئے اِس وقت وہ ایوان صدر میں ہیں ۔ بیگم عبدالباسط بولتی چلی گئی۔
      اوہ !۔۔۔ اِن حالات میں میری مدد کون کرئے گا ۔ ریشم ممتاز تقریباََ رو کر بولی۔
      آپ اندر آئیں اور مجھے ساری بات تفصیل سے بتائیں ۔۔۔ آخر معاملہ کیا ہے ۔ بیگم عبدالباسط جلدی سے بولیں اور اْنہیں گھر کے اندر لے گئیں ۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ریشم ممتاز نے اْنہیں ساری بات تفصیل سے بتا دی ۔ وہ حیران ہوکر سنتی رہی ۔ آخر مکمل تفصیل سن کر ریشم ممتاز سے مخاطب ہوئیں۔
      اِن حالات میں تو آپ کو کسی کی مدد کی ضرورت ہے ۔۔۔ مجید بھائی کے والد صاحب زندگی او رموت کے درمیان لڑ رہے ہیں اور ایسے میں مجید بھائی کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے ۔۔۔ عبدالباسط بھی صدر مملکت کے پاس ایوان صدر گئے ہیں ۔۔۔ اِن حالات میں آپ کی مدد کون کرئے گا ۔ بیگم عبدالباسط بولتی چلی گئیں۔
      میں نے سوچا شاید بھائی صاحب یہاں ہوں لیکن وہ بھی ایوان صدر چلے گئے ۔ ریشم ممتاز مایوسی سے بولی۔
      خیر میں کچھ مشہور ومعروف لوگوں کو جانتی ہوں ۔۔۔ وہ عرفان برادرز کے نام سے مشہور ہیں ۔۔۔ اْن کے والد ایل ایل بی شہباز احمد کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔۔۔ ایل ایل بی شہباز احمد بہت اعلیٰ پائے کے وکیل ہیں ۔۔۔ کہتے ہیں کہ و ہ آج تک ایک کیس بھی نہیں ہارے ۔۔۔ اور اْن کے بچے عرفان بردرز جاسوسی کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔۔۔ وہ پرائیوٹ جاسوس ہیں ۔۔۔اگر آپ کہیں تو میں آپ کو اْن کا پتا بتا سکتی ہوں ۔ بیگم عبدالباسط بولتی چلی گئیں۔
      ٹھیک ہے ۔۔۔ مجھے جلدی سے اْن کے دفتر کاپتا بتا دیں ۔ ریشم ممتاز جلدی سے بولیں۔
      شہر کی چوتھی سڑک کی پانچویں گلی کے پہلے مکان میں اْن کا دفتر ہے ۔۔۔ عرفان بردراز کا نام آج کل میں ہی مشہور ہوا ہے لیکن اْن کے والد ایل ایل بی شہباز احمد کافی جانے مانے وکیل ہیں ۔۔۔ پندرہ سال سے وکالت کررہے ہیں ۔۔۔ بے گناہوں کو بچانا اْن کا پیشہ ہے اور گناہ گاروں کو سزا دینا میں وہ بالکل بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔۔۔ اْن کی خاص بات یہ ہے کہ غریبوں کا کیس مفت میں لڑتے ہیں ۔۔۔ کیس کے سلسلے میں تفتیش کرنے کے لئے اپنے بیٹوں کو جو عرفان برادرز کے نام سے مشہورہیں بھیج دیتے ہیں ۔۔۔ وہ سراغ لگاتے ہیں اور پھر عدالت میں ایل ایل بی شہباز احمد بے گناہ کو رہا کر ا کر گناہ گارکو سزا دلواتے ہیں ۔۔۔ میں اْن کے بارے میں اکثر اخبار میں پڑھتی رہتی ہوں ۔ بیگم عبدالباسط بولتی چلی گئیں۔
      ٹھیک ہے ۔۔۔ اب میں چلتی ہوں ۔۔۔ دعا کریں وہ جلد رہا ہو جائیں ۔۔۔ اور اْنکے والد بھی جلد صحت یاب ہو جائیں ۔ یہ کہتے ہوئے ریشم ممتاز اْٹھ کھڑی ہوئی۔
      میں ضرور دعا کروں گی ۔ بیگم عبدالباسط نے کہا ۔ دوسرے ہی لمحے ریشم ممتاز آئی جی عبدالباسط کے گھر سے نکلتی چلی گئی۔اب اْس کا رخ ایل ایل بی شہباز احمد اور عرفان برادرز کے دفتر کی طرف تھا۔ اْس کی نظریں بار بار گھڑ ی کی طرف اْٹھ رہی تھی ۔ اِس وقت رات کے دس بج چکے تھے۔ سڑکیں سنسان ہو چکی تھیں۔ اِن حالات میں ریشم ممتاز عرفان برادرز کے دفتر کی طرف بڑھ رہی تھی۔






      ٭٭٭٭٭



      ایل ایل بی شہبا ز احمد عدالت میں کھڑے اپنی پرزور دلائل پیش کر رہے تھے۔مخالف وکیل ایم اے جیسوال ہار کے قریب تر ہوتا جا رہا تھا۔ ایم اے جیسوا ل کا خیال تھا کہ وہ پانچ منٹ کے اندر اندر ایل ایل بی شہباز کو شکست فاش دے دے گا لیکن جوں جوں جج ایل ایل بی شہباز کے دلا ئل سن رہے تھے وہ سچ کے قریب ہوتے جارہے تھے ۔ یہاں تک کہ جج نے اپنا فیصلہ سنا یا اور ایل ایل بی شہباز اپنی زندگی کا سوواں کیس جیت گئے ۔ سو کیس جیتنے کے بعد بھی آج تک کسی ایک کیس میں بھی اْنہیں ہار نہیں ہوئی تھی۔ دوسری طرف ایم اے جیسوال پہلی مرتبہ ایل ایل بی شہباز سے ٹکرایا تھا۔ اب تک اْس کا ریکارڈ تھا کہ اْسے بھی ہا ر کا منہ نہیں دیکھنا پڑ ا تھا لیکن آج پہلی مرتبہ وہ ایل ایل بی شہباز کے ہاتھوں اپنے ریکارڈ میں شکست کا اضافہ کر چکا تھا۔ عدالت سے باہر نکلتے وقت ایم اے جیسوال کا منہ دیکھنے لائق تھا۔







      آج پہلی مرتبہ مجھے شکست ہوئی ہے ایل ایل بی شہباز صاحب ۔۔۔ میں بہت جلد یہ بدلہ چکا دوں گا ۔ ایم اے جیسوال کے چہرے پر جھلاہٹ تھی۔






      میں اْس دن کا بڑی بے چینی سے انتظا رکروں گا جیسوال صاحب ۔ ایل ایل بی شہباز ہمیشہ کی طرح مسکرا کر بولے اور عدالت سے باہر نکل آئے ۔ اب اْن کا رخ اپنے گھر کی طرف تھا۔ اِ س وقت شام کے پانچ بج چکے تھے ۔ وہ گھر میں داخل ہوئے تو حسب معمول اْن کا استقبال نہایت گرم جوشی سے ہوا۔






      اباجان ۔۔۔ آج آپ سو واں کیس بھی جیت گئے ۔۔۔ اب آپ کو سو کیس جیتنے کی خوشی میں سو روپے کی مٹھائی کھلا نی چاہیے ۔ سلطان شوخ لہجے میں بولا۔






      اباجان ۔۔۔ آج آپ کی وکیل ایم اے جیسوال سے جھڑپ ہوئی ہے نہ ۔ عمران نے ایل ایل بی شہباز کا چہرہ پڑھتے ہوئے کہا۔ وہ اِس کام میں بہت ماہر تھا۔






      یہ جھڑپ تو اْن کی ہر اْس وکیل سے ہوتی ہے جو اْن کے خلاف کھڑا ہوتا ہے ۔ سادیہ مسکرائی۔






      ویسے اباجان کیس کیا تھا۔۔۔ کیا قتل کا کیس تھا ۔ عدنان کی جاسوسی کی حس پھڑ ک اْٹھی۔




      اباجان کو کوئی جواب تو دینے دو ۔ عرفان نے منہ بنایا۔ وہ ہمیشہ سنجیدہ رہتا تھا۔


      ہاں بھئی ۔۔۔ گھر میں داخل ہوا نہیں کہ تم لوگوں کے سوالات شروع ہوگئے ۔ ایل ایل بی شہباز مسکرا کر بولے۔ آخر اْنہیں نے شام کی چائے پیتے ہوئے سارا کیس سنا دیا۔ کیس دو کروڑ کی چوری کا تھا۔ اْن کے بچوں نے تجسس سے ساری کہانی سنی۔پھر اپنے کمرے کا رخ کیا۔ رات کے کھانے پرسلطان حسب معمول مذاق کا بھوت سوار لیے بیٹھا تھا۔


      اباجان ۔۔۔ آج تک مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی ۔ عرفان سنجیدگی سے بولا۔

      شکر ہے باقی باتیں سمجھ میں تو آگئیں ۔ سلطان مسکرایا۔
      تو کیا تم مجھے عقل سے پیدل سمجھتے ہو ۔ عرفان نے جل کر کہا۔
      نہیں تو ۔۔۔ میں توتمہیں عقل کے گھوڑے پر ۔۔۔ بلکہ نہیں ۔۔۔ گھوڑوں کا زمانہ اب کہاں۔۔۔ میں تو تمہیں عقل کے ہوائی جہاز پر سوار سمجھتے ہوں۔۔۔ لیکن آج کل تو راکٹوں کا زمانہ ہے ۔۔۔ تو پھر میں تمہیں عقل کے راکٹ پر سوار سمجھتا ہوں ۔ سلطان شوخ میں بولتا چلا گیا۔
      جب بولو گے بے تکا بولو گے ۔ عمران منہ بنا کر بولا۔
      تو تم تک کی بات بول دو ۔۔۔ میں سن لوں گا ۔ سلطان معصومیت سے بولا جس پر ایک قہقہہ گونج اْٹھا۔ تبھی عرفان کو پھر اپنی بات یاد آگئی۔
      اباجان ۔۔۔ میں آپ سے کہنا چاہتا تھا کہ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی ۔ عرفان نے پھر سے اپنی بات دھرائی۔
      ہاں ہاں ۔۔۔ کہو۔۔۔ میں سن رہا ہوں ۔ ایل ایل بی شہباز احمد نے اْسے دلچسپ نظروں سے دیکھا۔
      یہ ایم اے جیسوال آپ کی شہرت سے جلتا کیوں ہے ۔۔۔اور یہ شخص پانچ منٹ میں کیس حل کرنے کے خواب کیوں دیکھتا ہے ۔ عرفان منہ بنا کر بو لا۔
      پہلے سوال کا جواب تو صاف اور سیدھا ہے ۔۔۔ جو شخص شہرت رکھتا ہے اْس کے ہمدرد بھی ہوتے ہیں اور کچھ اْس کی شہرت سے جلتے بھی ہیں ۔۔۔ جیسوال صاحب بھی کچھ ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں جو میری شہرت سے جلتے ہیں ۔۔۔ دوسرے سوال کا جواب بھی صاف ہے ۔۔۔ بات ۔۔۔ ۔ ایل ایل بی شہباز احمد نے اتنا ہی کہا تھا کہ سلطان نے اْن کی بات کاٹ دی۔
      اباجان ۔۔۔ یہ جواب صاف کیسے ہے۔۔۔ کیاجواب میں دھول مٹی نہیں آتی ۔ سلطان مسکرا کر بولاجس پر وہ سب بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔
      مذاق کا بھوت ہر وقت سوار نہ رکھا کرو ۔ سادیہ نے منہ بنا کر کہا۔
      تو کس وقت سوار رکھا کروں ۔ سلطان فوراََ بولا۔
      اب تم سے کون مغز مارے ۔ سادیہ جھلا اْٹھی۔
      جو چیز تمہارے پا س ہے ہی نہیں وہ مجھے کیسے ماروگی ۔ سلطان شوخ لہجے میں بولا۔
      بھئی ۔۔۔ میری بات تو پوری ہونے دی ہوتی ۔۔۔ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جیسوال جیسے لوگ جلد بازی کا شکار رہتے ہیں ۔۔۔ آج کل دنیا میں ایسے بہت لوگ ہیں جو راتوں رات امیر بننا چاہتا ہیں ۔۔۔ جیسے۔۔۔۔ اْن کے الفاظ درمیان میں رہ گئے ۔ اِسی وقت دروازے کی گھنٹی بجی تھی ۔ وہ سب چونک اْٹھے ۔ ایل ایل بی شہباز نے عرفان کو اشارہ کیا جس پر وہ دروازہ کھولنے چلا گیا۔ واپس آیا تو اْس کے ساتھ ایک عورت کھڑی تھی۔ وہ ریشم ممتاز کے علاوہ اور کوئی نہیں تھی۔
      کون ہیں یہ عرفان ۔ ایل ایل بی شہباز احمد نے جلدی سے پوچھا۔
      یہ آپ سے ملنا چاہتی تھیں ۔ عرفان نے بتایا۔
      جی فرمائیے ۔ شہباز احمد جلدی سے بولے۔
      میں آپ کے پاس اپنے شوہر کا کیس لے کر آئی ہوں ۔۔۔ دو دن بعد اْن کی عدالت میں پیشی ہے ۔۔۔ مجھے عدالت کا صمن ابھی تک نہیں ملا لیکن سب انسپکٹر تنویرکا خیال یہی ہے کہ کل تک صمن بھی مل جائے گا۔۔۔ میں چاہتی ہوں آپ میرے شوہر کا کیس لڑیں ۔۔۔ اْن پر قتل کا الزام ہے ۔۔۔ سیٹھ افتخار عالم کے قتل کا ۔ ریشم ممتاز روانگی کے عالم میں بولتی چلی گئی۔ ایل ایل بی شہباز احمد اور اْن کے بیٹے حیران ہو کر اْسے دیکھنے لگے۔ ایک حیرت انگیز فضا وہاں چھا گئی تھی اور ریشم ممتاز بے بسی سے ایل ایل بی شہباز احمد کو گھوررہی تھی۔


      ٭٭٭٭٭

      باقی آئندہ

      ٭٭٭٭٭



    2. The Following User Says Thank You to Shahid Bhai For This Useful Post:

      Jelly Bean (08-04-2018)

    + Reply to Thread
    + Post New Thread

    Thread Information

    Users Browsing this Thread

    There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

    Visitors found this page by searching for:

    Nobody landed on this page from a search engine, yet!
    SEO Blog

    User Tag List

    Posting Permissions

    • You may not post new threads
    • You may not post replies
    • You may not post attachments
    • You may not edit your posts
    •