ذیابیطس پر کنٹرول

ابراہیم نوید
ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔ تاہم اگر آپ اکثر بلڈ شوگر کو چیک کراتے رہتے ہیں اور ہر بار اس میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے تو یہ آگے بڑھ کر آپ کو ذیابیطس کا مریض بھی بناسکتا ہے۔تاہم یہاں کچھ ایسی غذائیں، ورزشیں اور دیگر طریقے بتائے جارہے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح کو صحت مند لیول پر لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔سبزیوں، مچھلی اور پھلوں سے بھرپور غذا سے لطف اندوز ہوں۔مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ اس وقت 21 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جب لوگ پھل، سبزیوں، نٹس، مچھلی، اجناس (گندم، جو وغیرہ) اور زیتون کے تیل کو اپنی غذا کا حصہ بنالیں۔ مچھلی اور مرغی کے گوشت کا استعمال مسلسل کرنا چاہئے تاہم سرخ گوشت، مکھن یا میٹھی اشیا ء کو کبھی کبھار ہی کھانا چاہئے۔ پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل غذائیں بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں جبکہ زیتون کا تیل سوجن کا خطرہ کم کرتا ہے۔ انگور اور بیریز کا استعمال انگور اور اسٹرابیری میں موجود جز واینتھوسیان بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک نئی برطانوی تحقیق جو نوروچ میڈیکل سکول کے تحت ہوئی، کے مطابق روزانہ کچھ مقدار میں انگور یا بیریز کا استعمال بلڈ شوگر پر ویسے ہی اثرات مرتب کرتا ہے جو جسمانی وزن میں کمی سے مرتب ہوتے ہیں۔ ناشتہ سے منہ نہ موڑیں اگر کوئی اکثر صبح کی پہلی غذا کو چھوڑ دیتا ہے ہیں تو اس بات کے اندیشے بہت زیادہ ہیں کہ وہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہوجائے۔ ناشتہ کرنے سے دن بھر کے لیے بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔امریکا کی مینی سوٹا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ناشتہ دلیے یا دیگر صحت مند چیزوں پر مشتمل ہو تو زیادہ بہتر ہے، بہت زیادہ چکنائی والا ناشتہ بھی بلڈ شوگر کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے جتنا ناشتہ کرنا۔ ورزش کو عادت بنالیں جو لوگ ورزش (چہل قدمی، جاگنگ یا کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمی کم از کم ڈھائی گھنٹے فی ہفتہ) اور جسمانی مضبوطی کی تربیت کو عادت بنالیتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ بھی ورزش سے دور بھاگنے والوں کے مقابلے میں ایک تہائی حد تک کم ہوتا ہے۔ ورزش کے بعد پٹھوں میں زیادہ گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے ،اور وقت گزرنے کے ساتھ آپ جتنے فٹ ہوتے ہیں انسولین کے نظام میں اتنی ہی بہتری آتی ہے۔ زیادہ بیٹھنے سے گریز بیس منٹ تک بیٹھنے کے بعد دو منٹ کی چہل قدمی کو اپنی عادت بنالینا ذیابیطس کی روک تھام کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ ایک نئی برطانوی طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد چلنے کی عادت کو اپنالینے سے کھانے کے بعد آپ کا بلڈ شوگر بہت زیادہ بڑھنے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ اپنی ادویات کا جائزہ لینا مختلف امراض کے لیے ادویات جیسے دمہ کنٹرول کرنا، کولیسٹرول لیول میں کمی لانے اور بلڈ پریشر کو کم کرنے والی ادویات بھی بلڈ شوگر کو اوپر کی جانب لے جا سکتی ہیں۔ اگر ان ادویات کے استعمال کے ساتھ بلڈ شوگر میں اضافہ ہورہا ہو تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرکے دیگر ادویات کے بارے میں رائے لیںجو آپ کے امراض کا علاج بغیر کسی مضر اثرات کے کرسکیں۔ ٭٭٭