>
  • You have 1 new Private Message Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out this form.
    .
    + Reply to Thread
    + Post New Thread
    Results 1 to 3 of 3

    Thread: ویلنٹائن ڈے اور دیسی عشق

    1. #1
      Moderator Click image for larger version.   Name:	Family-Member-Update.gif  Views:	2  Size:	43.8 KB  ID:	4982
      smartguycool's Avatar
      Join Date
      Nov 2017
      Posts
      611
      Threads
      444
      Thanks
      102
      Thanked 489 Times in 324 Posts
      Mentioned
      127 Post(s)
      Tagged
      61 Thread(s)
      Rep Power
      2

      ویلنٹائن ڈے اور دیسی عشق

      یہ بات تو اب کسی شک و شبے کے بغیر ثابت کی جا چکی ہے کہ اگر ویلنٹائن ڈے نہیں منایا جائے گا، تو ہمارے معاشرے سے محبت اٹھ جائے گی۔ ہم نے دوسروں کی ریسرچ پر اعتبار کرنے کی بجائے چودھری ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے چنو اور منو سے مشہور دیسی اور علاقائی رومانی داستانوں پر ریسرچ کروائی تو ویلنٹائن ڈے کے تباہ کن اثرات کے متعلق حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔ آپ بھی چودھری ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے توسط سے اپنا علم بڑھائیں۔
      تو قارئین، آئیے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں اور داستان عبرت پڑھتے ہیں کہ کیسے ہماری قوم اس منحوس دن کی وجہ سے تباہ ہوتی آئی ہے۔

      سوہنی مہینوال کی داستان عشق
      سوہنی اپنے باپ ٹلا کمہار کی دکان پر بیٹھی تھی۔ آج عجیب ہی دن چڑھا تھا۔ سارے گاؤں میں میلے کا سا سماں تھا۔ دکان پر بہت رش تھا کہ گاؤں کے نوجوان سویرے سے ہی نزدیکی باغبان کی دکان سے پھول خرید کر سوہنی کی دکان پر آتے تھے تاکہ گھگھو گھوڑے خرید لیں اور اپنی اپنی محبوباؤں کو تحفے میں دیں۔ رش کی وجہ سے ٹلا کمہار کو سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں تھی۔ اتنی دیر میں ایک پردیس بنام مرزا عزت بیگ بخاری وہاں آیا لیکن رش کی وجہ سے گھبرا کر الگ کھڑا ہو گیا۔ اس نے بھی دوسروں کی دیکھا دیکھی پھول خرید رکھے تھے لیکن اس بچارے پردیسی کی یہاں تو کوئی محبوبہ ہی نہیں تھی۔
      اسے پریشان دیکھ کر سوہنی اس کی طرف بڑھی اور پوچھنے لگی کہ اسے کیا پریشانی ہے۔ مرزا عزت بیگ بخاری بولے کہ یہ پھول تو خرید لئے ہیں، اور اب گھگھو گھوڑا خریدنے آیا ہوں تاکہ ویلنٹائن ڈے کے لوازمات پورے ہو جائیں۔ سوہنی نے مرزا عزت بیگ بخاری کو گھگھو گھوڑا دے کر پیسے لئے اور پوچھا کہ کس خوش نصیب کو یہ پھول دو گے۔
      مرزا عزت بیگ بخاری کہنے لگا کہ میں تو یہاں پردیسی ہوں، کسی کو جانتا ہی نہیں ہوں۔ لگتا ہے کہ اپنی مج (بھینس) کو ہی پھول کھلانے پڑیں گے۔ سوہنی کو اس کی حالت پر بہت رحم آیا اور اس نے مرزا عزت بیگ کے ہاتھوں سے پھول لے کر کہا کہ تم پریشان مت ہو مج وال (مہینوال)۔ آج ویلنٹائن ڈے ہے۔ میں تم سے یہ پھول لے لیتی ہوں۔ تم اپنی مج کو گھاس کھلا دینا۔ اور یوں ویلنٹائن ڈے کی وجہ سے وہ عبرتناک داستان عشق شروع ہوئی جس کا انجام سوہنی اور مہینوال کے پبھرے ہوئے دریائے چناب میں ڈوبنے سے ہوا۔ نہ ویلنٹائن ڈے ہوتا، نہ عشق کی یہ بیل چڑھتی، اور نہ سوہنی اپنے شوہر کی بجائے اس طرح ایک پردیسی سے دل لگا کر اپنا نام ڈبوتی۔ آج تک پنجاب میں اس قصے کو ویلنٹائن ڈے کی تباہ کاریوں کا حوالہ دینے کے لئے سنایا جاتا ہے۔

      شیریں فرہاد
      روایت ہے کہ شیریں نامی ملکہ ایران ہوا کرتی تھی۔ مورخ بتاتے ہیں کہ قدیم ایران میں حسن کی چالیس صفات ہوتی تھیں، جن میں سے انتالیس اس حسینہ میں پائی جاتی تھیں۔ چالیسیوں صفت کے باب میں تاریخ خاموش ہے کہ کیا ہوا کرتی تھی۔ بہرحال شیریں شہنشاہ کسری پرویز کی ملکہ تھی۔ ایک سال ایسا ہوا کہ ویلنٹائن ڈے پر شیریں شاہی محل کے باغ میں گئی تو وہاں فرہاد نامی ایک ٹھیکیدار مٹی ڈلوا رہا تھا۔ فرہاد نے ہاتھوں میں پھول اٹھا رکھے تھے۔ شیریں سمجھی کہ وہ مالی ہے۔ اس نے فرہاد سے پھول لے کر اپنی کلائیوں میں گجرے پہن لئے۔ فرہاد اسی اثنا میں حسن کی انتالیس صفات کی عینی شہادت کر چکا تھا۔ چالیسیوں شرط کے باب میں ممتاز مورخ شیر محمد خان ابن انشا کا اندازہ ہے کہ وہ کردار کے بارے میں تھی۔ فرہاد کا بھی غالباً یہی اندازہ تھا۔ وہ ترنت مسز شیریں پرویز پر عاشق ہو گیا اور شیریں نے بھی ویلنٹائن ڈے کے احترام میں اس کے عشق کو قبول کر لیا۔
      ویسے تو مشہور تھا کہ پرانے زمانے کے بادشاہ ہر بندے کو ٹانگنے پر تلے رہتے تھے، اور ایرانی شہنشاہ تو زندہ بندے کی کھال کھنچوا کر اس میں بھس بھروانے کے بھی قائل تھے، لیکن کسری پرویز غالباً ایک موقع شناس اور کنجوس حکمران تھا۔ اس نے فرہاد کو کہا کہ دیکھو نوجوان ٹھیکیدار۔ تمہارا قصور نہیں ہے کہ تم میری ملکہ مسز شیریں پرویز پر عاشق ہو گئے ہو اور وہ بھی تم سے الفت رکھتی ہے۔ یہ سب ویلنٹائن ڈے کا قصور ہے۔ میں سچی محبت کی راہ سے ہٹ جاؤں گا۔ تم صرف یہ ثابت کر دو کہ تم شیریں سے سچا پیار کرتے ہو۔ بس یہ سامنے والے پہاڑ کے پچھلی طرف جو دریا ہے، اس سے ایک نہر نکال کر یہاں محل تک لے آؤ تو معاوضے میں تمہیں شیریں مل جائے گی۔ غالباً بادشاہ کا خیال تھا کہ نہر نکالنے میں بیس تیس سال لگیں گے اور اتنی دیر میں وہ نئے ماڈل کی ملکہ لا چکا ہو گا۔ لیکن فرہاد ایک تجربہ کار ٹھیکیدار تھا اور میٹرو اور اورینج ٹرین کے کئی منصوبے ریکارڈ ٹائم میں مکمل کر چکا تھا۔ وہ چند ماہ میں ہی نہر نکال لایا۔ تو بادشاہ نے میڈیا پر یہ ٹکر چلوا دیا کہ شیریں مر گئی ہے۔ فرہاد نے اپنا تیشہ سر پر مارا اور فوت ہو گیا۔ خبر سن کر شیریں نے نہر میں چھلانگ لگا دی اور مر گئی۔ شہنشاہ کسری پرویز چالیس صفات والا نیا ماڈل لے آیا۔ یوں ویلنٹائن ڈے کی وجہ سے قدیم ایرانی تاریخ کی اس ٹریجیڈی نے جنم لیا۔

      سسی پنوں
      سسی بھنبھور شہر کی ایک دھوبن تھی لیکن اس نے مشہور کر رکھا تھا کہ وہ ایک شہزادی ہے۔ پنوں ایک اصلی شہزادہ تھا جو کہ ویلنٹائن ڈے پر بھنبھور پہنچا۔ وہ کپڑے دھلوانے سسی کے باپ کی دکان پر پہنچا اور اس نے اپنے کپڑے دھلوانے کے لئے سسی کو پکڑا دیے۔ غلطی سے ان کپڑوں کے ساتھ ایک پھول بھی چلا گیا۔ اس پر سسی کو غلط فہمی ہو گئی کہ پنوں اس پر عاشق ہے۔ اس ویلنٹائن ڈے کی دوپہر کو سسی نے پنوں کو کپڑے واپس کئے تو ان میں سرخ دھاگے سے کئی پھول بھی کاڑھ دیے تھے۔ اپنے کپڑوں کا یہ حال دیکھ کر پنوں کو بھی سسی سے محبت ہو گئی۔ کافی چکر چلے لیکن آخر میں ویلنٹائن ڈے کی شام کو عین نکاح کے وقت پنوں کے شاہی خاندان والے اس کو شراب پلا کر اونٹنی پر بٹھا کر لے گئے۔ سسی کو پتہ لگا تو وہ شادی کی پھول مالا پکڑ کر پنوں کے پیچھے دوڑی۔ راستے میں ہائی وے کے ریسٹ ایریا میں وہ رکی تو ایک گڈریے سے اس نے پانی مانگا اور دونوں ہاتھوں سے پانی کا پیالہ پکڑنے کو اس نے پھولوں کی مالا گڈریے کو پکڑا دی۔ صبح سے گڈریا نراش بیٹھا تھا کہ اس ویلنٹائن ڈے کو بھی اس کی کوئی محبوبہ نہیں ہے۔ سسی سے ویلنٹائن ڈے کی شام کو پھول پا کر گڈریا یہ سمجھا کہ سسی کو اس سے محبت ہو گئی ہے۔ اس نے سسی سے جوابی محبت کرنے کی کوشش کی تو سسی نے دعا مانگی، زمین پھٹی، اور سسی وہیں زمین میں دفن ہو گئی۔ پنوں کو پتہ چلا تو وہ بھی اسی سپاٹ پر پہنچا اور وہ بھی اسی سٹائل میں دعا مانگ کر زمین پھاڑ کر وہیں دفن ہو گیا۔ یوں ویلنٹائن ڈے کو شروع ہونے والی یہ داستان محبت رات تک سسی اور پنوں کی موت پر ختم ہو گئی۔ نہ ویلنٹائن ڈے ہوتا، اور نہ یہ ساری عشق معشوقی کی غلط فہمی چلتی۔

      ہیر رانجھا
      رانجھا ایک نکھٹو لڑکا تھا۔ اس کے سارے بھائی دن بھر کھیتی باڑی کرتے اور وہ مرغزاروں کی سیر کرتا اور چین کی بانسری بجایا کرتا۔ باپ فوت ہوا تو اس کے بھائیوں نے اسے کہا کہ کام کرو تو کھانا ملے گا۔ اس نے کام کرنے سے انکار کر دیا۔ بانسری بجاتا، جنگلی پھول گلے میں ڈالے، عین ویلنٹائن ڈے پر ہیر سیال کے گاؤں میں داخل ہوا۔ اس نے کھانا پانی مانگا تو ہیر نے اسے کھانا دیا۔ اس نے اپنی بانسری اور پھول ہیر کو پکڑائے اور کھانے پینے میں مصروف ہو گیا۔ ہیر وہیں تیر عشق سے گھائل ہو گئی۔ پھول اس نے اپنے بالوں میں لگائے اور رانجھے کو کہنے لگی کہ \آئی لوو یو ٹو\۔ اس طرح یہ داستان محبت شروع ہوئی۔ ہیر کی یہ حرکتیں دیکھ کر اس کے چچا کیدو نے اس کے باپ چوچک سے شکایت لگائی جس نے ہیر کی شادی ایک اچھے گھر میں کروا دی۔ رانجھے کو پتہ چلا تو وہ جوگی ہو گیا۔ مانگتے مانگتے وہ ٹھیک ایک سال بعد اگلے ویلنٹائن ڈے پر ہیر کے سسرالی گاؤں پہنچ گیا اور یوں دوبارہ عشق کی پینگیں جھولنے لگا۔ ہیر کے سسرال والوں نے یہ حال دیکھ کر ہیر کو ڈیفیکٹو پیس قرار دے کر واپس اس کے گاؤں بھیج دیا۔ کافی لڑائی جھگڑے کے بعد چوچک آخر کار ہیر کی شادی رانجھے سے کرنے پر راضی ہو گیا۔ لیکن کیدو نے عین شادی کے دن ہیر کو شادی کا زہریلا لڈو کھلا کر مار دیا۔ رانجھے کو پتہ چلا تو اس نے بھی شادی کا لڈو کھا کر خودکشی کر لی۔ یوں ویلنٹائن ڈے کی نحوست سے دو معصوم جانیں گئیں۔

      مرزا صاحباں
      مرزا اور صاحباں کزن تھے۔ ایک ویلنٹائن ڈے کو صبح سویرے صاحباں اپنے گھر کی چھت پر جھاڑو دے رہی تھی جس پر ایک پھولوں کے درخت سے کافی پھول پتے جھڑ کر گرے ہوئے تھے۔ اس نے ان پھول پتوں کی ٹوکری بھی کر نیچے گلی میں پھینک دی۔ اتفاق سے اس وقت وہاں سے مرزا گزر رہا تھا اور پھول پتیوں کا یہ سارا کوڑا اس کے اوپر گرا۔ اس نے عین ویلنٹائن ڈے پر اس طرح خود کو پھولوں کی بارش کا مرکز پایا تو بے اختیار اس کی نگاہ اوپر اٹھ گئی جہاں صاحباں کھڑی اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ مرزا نے بھی اسے سمائل دی اور سارے پھول سمیٹ کر گھر لے گیا جہاں اس نے انہیں کتابوں میں رکھ کر سکھا لیا۔ یوں عشق کی ایک اور المناک داستان کا آغاز ہوا۔ صاحباں کی شادی کسی اور جگہ ہونے لگی تو اس نے مرزے کو پیغام بھیجا۔ مرزے کا گھوڑا ان دونوں کو زبردستی گھر سے بھگا کر لے گیا۔ راستے میں وہ ریسٹ ایریا میں رکے تو صاحباں کا بھائی بھی دگڑ دگڑ کرتا وہاں پہنچ گیا۔ صاحباں کو پتہ تھا کہ مرزے کا نشانہ اچوک ہے، اس لئے اس نے مرزے کو جگانے سے پہلے اس کی کمان چھپا دی۔ بھائی نے آ کر مرزے کو مار دیا۔ یہ دیکھ کر صاحباں نے خودکشی کر لی۔ اور سینٹ ویلنٹائن ڈے کی نحوست سے دو ناسمجھ بچے اس طرح جوانمرگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
      کاش دنیا میں سینٹ ویلنٹائن ڈے نہ ہوتا تو لوگ اس طرح محبت نہ کیا کرتے۔ کاش کیلنڈر سے بس یہ ایک دن نکل جائے تو نوجوانوں کے دلوں سے محبت بھی نکل جائے گی۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔



      بشکریہ ..... عدنان خان کاکڑ



    2. The Following 2 Users Say Thank You to smartguycool For This Useful Post:

      CaLmInG MeLoDy (02-15-2018),intelligent086 (02-15-2018)

    3. #2
      The thing women have yet to learn is nobody gives you power. You just take it. Admin CaLmInG MeLoDy's Avatar
      Join Date
      Apr 2014
      Posts
      6,200
      Threads
      2233
      Thanks
      926
      Thanked 1,364 Times in 866 Posts
      Mentioned
      1038 Post(s)
      Tagged
      7965 Thread(s)
      Rep Power
      10

      Re: ویلنٹائن ڈے اور دیسی عشق

      bohot achi sharing hai..shukria..






    4. #3
      Administrator Admin intelligent086's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Location
      لاہور،پاکستان
      Posts
      38,411
      Threads
      12102
      Thanks
      8,637
      Thanked 6,946 Times in 6,472 Posts
      Mentioned
      4324 Post(s)
      Tagged
      3289 Thread(s)
      Rep Power
      10

      Re: ویلنٹائن ڈے اور دیسی عشق

      واہ کاکڑ صاحب نے ساری لوک داستانوں کا اچھا کچومر نکالا ہے
      عمدہ شیئرنگ



      کہتے ہیں فرشتے کہ دل آویز ہے مومن
      حوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن

    + Reply to Thread
    + Post New Thread

    Thread Information

    Users Browsing this Thread

    There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

    Visitors found this page by searching for:

    Nobody landed on this page from a search engine, yet!
    SEO Blog

    User Tag List

    Posting Permissions

    • You may not post new threads
    • You may not post replies
    • You may not post attachments
    • You may not edit your posts
    •