.


Sehri Special Recipes



Iftaar Special Recipes



Need Your Feed Back


  • You have 1 new Private Message Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out this form.
    .

    User Tag List

    + Reply to Thread
    + Post New Thread
    Results 1 to 2 of 2

    Thread: بدلنا گھر مستنصر حسین تارڑ کا

    1. #1
      Moderator Click image for larger version.   Name:	Family-Member-Update.gif  Views:	2  Size:	43.8 KB  ID:	4982
      smartguycool's Avatar
      Join Date
      Nov 2017
      Posts
      606
      Threads
      439
      Thanks
      102
      Thanked 485 Times in 320 Posts
      Mentioned
      127 Post(s)
      Tagged
      61 Thread(s)
      Rep Power
      1

      بدلنا گھر مستنصر حسین تارڑ کا

      تارڑ صاحب نے گھر بدل لیا۔ گلبرگ سے ڈیفنس چلے گئے۔ ان کے دو کالم اس سلسلے میں آئے اور فقیر کو مار گئے۔ ویسے تو اگلے زمانوں کے فقیر کسی بھی حق بات پر چیخ مار کر لمبے لیٹ جاتے اور چادر تان کر اور کبھی بغیر تانے فوت ہوجاتے تھے۔ لیکن فقیر تھاں مر گیا! بہ خدا آپ کا حسنین جمال مر گیا! یہ کالم سینے میں جا ترازو ہوئے، بس، اور کچھ بھی نہ ہوا۔ اور یہ بھی اچھا ہوا، برا نہ ہوا۔
      بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاوں گھنی ہوتی ہے
      ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
      بزرگوں سے سنتے تھے کہ عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا، اچھا بھئی نہیں ہو گا۔ مردوں کا کون سا گھر ہوتا ہے؟ مڈل کلاسیوں کا تو مشکل ہی سے اپنا ذاتی گھر ہو پاتا ہے۔ تارڑ صاحب کے نوادرات، کتابیں اور پودے یہ تین دکھ ایسے ہیں جن کا اس فقیر کو بدرجہ اتم اندازہ ہے! خیر سے پانچ گھر بدل چکا ہے!! راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے / عمر بھر حالت سفر میں رہے۔ نوشی گیلانی کا یہ شعر کسی بھی سیلانی جیوڑے کے دکھ کا بہترین اظہار ہے۔
      کیا آپ کو خبر ہے کہ جب آپ پہلا گھر چھوڑتے ہیں تو آپ کیا کیا چھوڑ دیتے ہیں؟ آپ اس صحن کو چھوڑتے ہیں جہاں آپ بچپن کی بارشوں میں نہائے ہوتے ہیں۔ آپ اس گلی کو چھوڑتے ہیں جہاں آپ نے سائیکل چلانا سیکھا ہوتا ہے۔ آپ اس لوہے کے پائپ کو چھوڑتے ہیں جس سے لٹک کر آپ نے قد بڑھایا تھا۔ آپ اس بیٹھک کو چھوڑتے ہیں جہاں آپ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ آپ اس برآمدے کو چھوڑتے ہیں جہاں آپ کی ماں، آپ کی دادی دھوپ سینکا کرتی تھیں۔ آپ وہ باورچی خانہ چھوڑتے ہیں جہاں نعمت خانہ بھی ہوتا تھا۔ آپ وہ کمرے چھوڑتے ہیں جو چھوٹے ہوتے تھے، جہاں ان زمانوں میں شاید اے سی بھی نہیں ہوتا تھا، لیکن گرمی بھی نہیں لگتی تھی۔ آپ وہ بیلیں چھوڑتے ہیں جو آپ یا آپ کے باپ بہت شوق سے لگاتے تھے۔ آپ وہ درخت چھوڑتے ہیں جن کے پھل کھانے کو آپ کے دادا نے انتظار کیا تھا۔ آپ اس ڈھول والے کو بھی چھوڑ جاتے ہیں جو آپ کو سحری پر اٹھاتا تھا۔ آپ چھوڑتے ہیں کچی اینٹوں والا وہ فرش جو دھل کر نکھر جاتا تھا۔ آپ چھوڑتے ہیں چارپائیوں پر سونا، جو شدید گرمیوں میں بھی گرم نہیں ہوتی تھیں۔ آپ ان کو چھوڑ کر فوم پر سونے لگتے ہیں، اے سی بھی چلاتے ہیں کہ فوم تو بابا گرم ہوتا ہے نا۔ آپ کھلے آسمان تلے سونا چھوڑتے ہیں اور پنکھا دیکھ کر سونا پسند کرتے ہیں۔ آپ وہ روشندان چھوڑتے ہیں جو آپ کے نئے گھر میں ہرگز نہیں ہوتے۔ ایسی فضول چیز کی جگہ ہو بھی کیوں۔ آپ وہ چھت چھوڑتے ہیں جس پر پتنگ اڑانے کے بعد آپ گالیاں کھاتے تھے۔ آپ وہ سیڑھیاں چھوڑتے ہیں جن میں ریلنگ کے بجائے دیواریں ہوتی تھیں اور جہاں ہر تین ماہ بعد ہاتھوں کے نشان مٹانے کے واسطے چونا کرایا جاتا تھا۔ آپ وہ پرندے چھوڑتے ہیں جو اس دانے اور پانی پر اتر آتے تھے جو آپ کی دادی ڈالتی تھیں۔ واللہ آپ سب چھوڑ دیتے ہیں، وہ لوگ چھوڑ دیتے ہیں جو آپ کے اردگرد رہتے تھے، کیسے پیارے محبتی لوگ چھوڑ دیتے ہیں، اور کہاں کہاں چھوڑ دیتے ہیں۔ الغرض آپ چھوڑ دیتے ہیں وہ سب کچھ جو آپ کے خمیر میں ہوتا ہے اور نکل پڑتے ہیں آپ ترقی کی شاہراہ پر۔
      پھر کیا ہوتاہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ تمام عمر آپ کو جو خواب آتے ہیں وہ اسی پہلے گھر کے آتے ہیں۔ لوگ بدلتے رہتے ہیں، خوابوں میں موجود گھر نہیں بدلتا۔
      ابھی بیگم نے پوچھا کیا لکھ رہے ہیں، ہم نے کہا تارڑ صاحب گھر بدل رہے ہیں، تو چونکہ ہم بھی اس معاملے میں جلے پیر کی بلی ہیں تو ہم بھی ان کا دکھ بانٹ رہے ہیں۔ کہنے لگیں یہ تو ان کے موضوع کی نقل ہوئی، تس پر ہم نے انہیں وہ گئے وقت یاد دلائے جب عطاالحق قاسمی صاحب کا ویسپا چوری ہوا تھا تو کن کن لوگوں نے کالم لکھ مارے تھے۔ اخوت اسی کو تو کہتے ہیں۔
      آمدم بر سر مطلب، آپ گھر چھوڑ دیتے ہیں۔ نئے گھر آ جاتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس صرف دو تین ہزار کتابیں بھی ہوں تو آپ ایک امتحان میں ہیں۔ آپ کے بچے سوالیہ نظروں سے دیکھیں گے کہ ابا کتابیں کہاں رکھتے ہیں اور ہمیں کہاں ٹانگتے ہیں۔ پھر اگر آپ مجسموں کے شوقین ہیں، قطع نظر ان کے سائز کے، تو بھی آپ آزمائش میں ہیں۔ پرانے گھر میں ایک ایک کر کے کہیں نہ کہیں آپ نے جیسے تیسے تمام مجسمے اور نوادرات ٹانگ دئیے تھے، اب یہاں کیا کیا بنائیں گے۔ کتنے طاقچے، کتنے کھوپچے، کتنے شیلف، پھر بھی آپ کا آدھے سے زیادہ سامان ڈبوں میں بند رہے گا۔ کیا کہا، آپ کے گھر میں تصویریں بھی ہیں؟ پھر تو آپ باقاعدہ بدنصیب ذی نفس ہیں۔ آپ کے فریم سامان کی منتقلی کے دوران ٹوٹیں گے۔ جو شیشے کے ساتھ ہیں ان کا تو خدا حافظ ہے۔ پھر آپ کے کینوس نے ایک نہ ایک رگڑ بھی ضرور کھانی ہے۔ جو آپ کی سب سے پسندیدہ تصویر ہے اسی کے ساتھ کچھ نہ کچھ ہو گا۔ ہمیشہ ہوا ہے بھئی، ہمارا تجربہ ہے، کیسے نہیں ہو گا؟ ہمارا فاقہ مست بدھا کا ریپلیکا ایسے ہی ٹوٹا تھا۔ کمال کرتے ہیں آپ، اور وہ ایرانی فریم بھی ایسے ہی اپنے اصل سے جا ملا تھا۔
      چلیے یہ سب بھی ہو گیا۔ کاغذات کہاں جائیں گے؟ کتنے خطوط، کتنے وزیٹنگ کارڈ، کتنی تصویریں، آپ کے بچوں نے بچپن میں پنسل سے جو ڈرائنگ بنائیں تھیں وہ، کہیں سے کوئی تعویز نکلے گا، کوئی گمشدہ کڑا نکل آئے گا، کبھی صرف ایک کف لنک موجود ہو گا لیکن آپ اسے بھی سنبھالنا چاہیں گے، لیکن کیوں۔ بھئی یہ سب کباڑ ہے اس سے چھٹکارا پانا ہے، نئے گھر جانا ہے، کیا کریں گے اتنا سب کچھ ساتھ لے جا کر۔ چھوڑ دیں، یہ سب بھی چھوڑ جائیں۔
      استری کیے ہوئے کپڑے جب اگلی الماری میں جائیں گے تو ان کی دو دو تہیں ہوں گی جو اگلے چھ مہینے آپ کو یاد دلائیں گی کہ آپ نے گھر بدلا تھا۔ سردیوں میں آپ کے مفلر کھو جائیں گے، گرمیوں میں ٹی شرٹ والا بیگ گم جائے گا جو اگلے گھر جانے پر نکلے گا۔
      پودے، آپ کے کتنے ہی عزیز از جان پودے کیوں نہ ہوں۔ بونسائی ہوں، کیکٹس ہوں، اگاوے ہوں یا صرف موتیے اور گلاب ہوں، سب کی آتما رل جائے گی۔ بیسیوں گملے ٹوٹیں گے، پودوں کی شاخیں ٹوٹیں گی، دھوپ کے رخ کا اندازہ دو سیزن گزار کر ہو گا اور اس بیچ کتنے ہی پودے شہادت کی معراج پائیں گے۔ اور پھر وہ پام، وہ چنبیلی اور وہ بوگن ویلیا آپ نئے مالک کے رحم وکرم پر چھوڑ جانے پر مجبور ہوں گے جو زمین میں گڑے ہیں۔ وہ آپ کے قدم بھی زمین میں بار بار گاڑیں گے، آپ بھول کر بھاگنا چاہیں گے لیکن آتے جاتے باہر سے انہیں ایک نظر دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔ پھر کوئی حرام الدہر انہیں اکھاڑ پھینکے گا۔ آپ گھر آ کر اداس پھریں گے لیکن صاحب نیا گھر تو نیا گھر ہے۔
      تو کل ملا کر یہ جان لیجیے کہ اگر آپ اس دھرتی پر موجود بے مایہ چیزوں سے محبت کرنے والے بے وقوف ہیں اور انہیں گلے سے لگا کر رکھتے ہیں تو آپ خسارے میں ہیں۔ اور اگر آپ میں ایسی کوئی فنی خرابی نہیں تو صاحب بسم اللہ، نیا گھر مبارک!! اور اگر آپ ہماری طرح کرائے کے گھر میں ہیں تو آپ کو ہرگز یہ دلدر نہیں پالنے چا ہیئیں۔ ورنہ کشمکش دہر سے آزادی نہیں ملتی بھائی، مکتی بہت مشکل ہے اس جہان فانی میں ان تمام چیزوں سمیت۔
      تو تارڑ صاحب اس دنیا میں ایک بندہ ایسا ہے جو آپ پر گزرتے ہر لمحے کی کٹھنائی محسوس کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ آپ کے خالی شیلف کی تصویر دیکھتا ہے تو اپنا ملتان والا گھر یاد کرتا ہے۔ وہ آپ کے پودوں کا پڑھتا ہے تو اپنی پانچ شفٹنگ یاد کرتا ہے۔ آپ کو سامان اٹھتے دیکھ کر ہول اٹھتا ہے تو اس کا درد محسوس کرتا ہے۔ آپ نابغہ روزگار محلے داروں کو یاد کرتے ہیں تو وہ اپنے نواں شہر ملتان والے مخلص محلے داروں کو لاہور بیٹھ کر یاد کرتا ہے۔ ہاں آپ اپنے بچوں کی شادیاں یاد کرتے ہیں تو یہ بدنصیب اپنی ماں کے وہ آنسو یاد کرتا ہے جو باورچی خانے کی کھڑکی سے باہر فقیر کا سامان ٹرک پر لدتے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آئے تھے ۔ فقیر کی نظر پڑی تو دل پہ تیر چلے . مگر وہ موتی دوپٹے میں گم ہو چکے تھے۔


      بشکریہ . حسنین جمال



    2. The Following 2 Users Say Thank You to smartguycool For This Useful Post:

      intelligent086 (02-15-2018),Ubaid (02-15-2018)

    3. #2
      Administrator Admin intelligent086's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Location
      لاہور،پاکستان
      Posts
      38,398
      Threads
      12100
      Thanks
      8,629
      Thanked 6,934 Times in 6,470 Posts
      Mentioned
      4324 Post(s)
      Tagged
      3289 Thread(s)
      Rep Power
      10

      Re: بدلنا گھر مستنصر حسین تارڑ کا

      عمدہ شیئرنگ کا شکریہ



      کہتے ہیں فرشتے کہ دل آویز ہے مومن
      حوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن

    + Reply to Thread
    + Post New Thread

    Thread Information

    Users Browsing this Thread

    There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

    Visitors found this page by searching for:

    Nobody landed on this page from a search engine, yet!
    SEO Blog

    Posting Permissions

    • You may not post new threads
    • You may not post replies
    • You may not post attachments
    • You may not edit your posts
    •