• You have 1 new Private Message Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out this form.
    . .
    Viki

    User Tag List

    + Reply to Thread
    + Post New Thread
    Results 1 to 3 of 3

    Thread: قیام پاکستان کے لئے علامہ شبیر احمد عثمان®

    1. #1
      Administrator www.urdutehzeb.com/public_html intelligent086's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Location
      لاہور،پاکستان
      Posts
      37,718
      Threads
      11984
      Thanks
      7,598
      Thanked 6,413 Times in 6,055 Posts
      Mentioned
      4166 Post(s)
      Tagged
      3286 Thread(s)
      Rep Power
      10

      قیام پاکستان کے لئے علامہ شبیر احمد عثمان®

      قیام پاکستان کے لئے علامہ شبیر احمد عثمانی ؒکی بے مثال خدمات

      شیخ الا سلام علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ ۰۱؍ محرم الحرام 1305ھ بمطابق 1889ء میں یوپی کے شہر بجنور میں پیداہوئے۔ وہ دَارُالعلوم دِیوبند کے فارِغُ التحصیل تھے اور ایک طویل عرصہ تک دَارُالعلوم دِیوبند میں دَرس و تدرِیس کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ آپ کے وَالد محترم کا نام مولانا فضل الرحمن عثمانیؒ تھا جو دہلی کالج کے تعلیم یافتہ اور اُردُو و فارسی کے بہترین اَدِیب و شاعر تھے۔ وہ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ بانیِ دَارُ العلوم دِیوبند کے رفیق خاص تھے۔ علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کے اَرشد تلامذہ میں سے تھے۔ علامہ شبیر اَحمد عثمانی رحمہ اللہ کی علمی شہرت طالب علمی کے زمانے میں ہی عام تھی اور آپ کی ذہانت کا دَارُالعلوم دِیوبند میں چرچا تھا۔ چنانچہ دَارُالعلوم سے سند فراغت ملنے کے بعد اَساتذہ کے حکم اور اَپنی خداداد صلاحیتوں کی وَجہ سے وہیں دَارُالعلوم دِیوبند ہی میں پڑھانا شروع کیا۔ اس دوران آپ نے یوپی کے مختلف اضلاع کا تبلیغی دورہ بھی کیا اور متحدہ ہندوستان میں دِین کے لئے بڑا کام کیا اور اسی دورے میں آپ نے ترکی کے لئے بڑے فنڈز اکٹھے کیے۔ یہ1912ء کا زمانہ تھا اور اس وَقت بلقان کی جنگ جارِی تھی۔ علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے تحریک خلافت اور عدم تعاون تحریک میں حصہ لیا۔ علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ نے بھی دِینی و علمی خدمات کے ساتھ ساتھ1911ء سے باقاعدہ طور پر سیاست میں حصہ لینا شروع کیا، آپ نے اَپنی سیاسی زِندگی کا آغاز جمعیت الانصار کے پلیٹ فارم سے کیا۔ آپ نے جمعیت الانصار مراد آباد کے اِجلاس میں اَپنا پرمغز مقالہ الاسلام کے نام سے پڑھا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اَشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے اُس موقع پر فرمایا: مولانا شبیر احمد عثمانی کے ہوتے ہوئے اب ہمیں کوئی فکر اور غم نہیں رہا جمعیت الانصار شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کی تحریک تھی اور علامہ عثمانی اُن کے شاگردِ خاص تھے۔
      علامہ عثمانیؒ کے مختلف جلسوں میں خطاب کے باعث ہندوستان کے مسلمانوں کی سوچ و فکر ایک نئے راستے پر گامزن ہوئی۔ آپ نے تحریک خلافت کے لئے بھی بہت کام کیا۔ ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں آپ کے خطاب نے مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی بیداری میں مرکزی کردار ادا کیا۔ آپ ایک بلندپایہ عالم، خطیب اور مفسر بھی تھے۔ تحریک خلافت کے بعد 1919ء میں جمعیت علمائے ہند کی بنیاد رکھی گئی۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ جمعیت علمائے ہند کی ورکنگ کمیٹی اور مجلس منتظمہ کے لئے منتخب کیے گئے۔ 1920ء میں علامہ شبیر احمد عثمانی نے دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے جلسے میں خطبہ ترکِ موالات مسلمانوں کے سامنے پیش کیا۔ علامہ عثمانی 1919ء سے جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے مسلمانان ہند کے لئے سیاسی و ملی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ 26اکتوبر1946ء کو علامہ شبیر احمد عثمانی نے تحریک پاکستان کے حامی علماء کے ساتھ مل کر جمعیت علمائے اسلام قائم کی جو مسلم لیگ اور اس کے مطالبہ پاکستان کی حامی تھی، اس کا پہلا اجلاس کلکتہ میں منعقد ہوا۔ علامہ شبیر احمد عثمانی بوجہ بیماری اس اجلاس میں شرکت نہ کر سکے، لیکن آپ کا تحریر کردہ پیغام حاضرین جلسہ کو پڑھ کر سنایا گیا علامہ عثمانی کے اس پیغام نے مسلمانوں پر بے حد اثر ڈالا۔
      علامہ شبیر احمد عثمانیؒ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے سرگرم ممبر بھی تھے۔ مسلم لیگ کی آئین ساز کمیٹی کے تین سال تک ممبر رہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے 1945ء میں صدر بنے اور پاک عرب ایسوسی ایشن کراچی کے1948ء اور اسلامک ایسوسی ایشن کراچی کے1945ء کے دوران ممبر منتخب ہوئے اور جمعیت پنجاب اور کمیٹی کانفرنس 1946ء کے ساتھ منسلک رہے۔آپ نے 1947ء کے دنوں میں ایبٹ آباد، کوہاٹ، بنوں، مردان، مانسہرہ اور قبائلی علاقہ جات کا دورہ کیا۔ آپ نے 1946ء میں دہلی کنونشن آل انڈیا مسلم لیگ کی میٹنگ میں بھی شمولیت اختیار کی۔
      آپ قائداعظم محمد علی جناحؒ مرحوم کے دست راست تھے، چناں چہ قائد اعظم نے آپ کے ساتھ مل کر سرحد ریفرنڈم کے موقع پر سرحد کا دورہ کیا، قیام پاکستان کی اہمیت سے پٹھانوں کو آگاہ کیا، علامہ عثمانی ؒ نے اپنے مریدوں اور پیروکاروں کے ذریعے سرحد میں قیام پاکستان کے مطالبے کو مقبول بنایا، چناں چہ سرحد کے ریفرنڈم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں علامہ عثمانی ؒ کا بنیادی کردار ہے۔ قائداعظم سب سے پہلے سرحد کے ایک پیر صاحب کی دعوت پر سرحد میں آئے تھے۔
      تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لئے آپ نے میرٹھ میں اپنا شان دار خطبہ صدارت پڑھا، جس نے ملک کی سیاسی بساط پلٹ کر رکھ دی اور آپ نے مسلمانوں کو مسلم لیگ کو ووٹ دے کر تحریک پاکستان کو کامیاب بنانے کا مشورہ دیا، جس کے نتیجے میں مسلم لیگ کو زبردست کامیابی ہوئی۔ 1946ء میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی صدارت میں جمعیت علمائے اسلام کا اجلاس اسلامیہ کالج لاہور کے گراؤنڈ میں ہوا۔ اس اجلاس میں علامہ عثمانی نے اپنا خطبہ ہمارا پاکستان کے نام سے پیش کیا۔ تحریک پاکستان، مسلم لیگ اور قائداعظم کے مشن کو تقویت پہنچانے کے لئے آپ نے ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں کا دورہ کیا اور اپنی بصیرت افروز تقریروں سے مسلمانوں کو بیدار کیا۔
      قائد اعظم محمد علی جناحؒ قیام پاکستان کے لئے علامہ شبیر احمد عثمانی کی خدمات کے بڑے معترف تھے۔ چناں چہ ماہِ اگست1947ء میں قیامِ پاکستان سے چند روز قبل جب آپ کراچی تشریف لائے اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو پاکستان کے دارالحکومت کراچی میں پاکستان کا پہلا پرچم بلند کرنے کا اعزاز انہی کے حصے میں آیا تھا اور قائداعظم کی فرمائش پر 14اگست کو پاکستان کی پرچم کشائی کا سہرا آپ ہی کے ہاتھوں سرانجام پایا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی علامہ شبیر احمد عثمانی پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ مارچ 1949ء میں پاکستان کی مجلس دستور ساز نے جو قرارداد مقاصد منظور کی تھی اس کی تیاری میں بھی انہوں نے بڑابھرپور حصہ لیا تھا۔ آپ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے اس لئے پاکستان میں اسلامی آئین کے نفاذ کے لئے آپ نے عملی اقدام کیا۔ 1949ء کی قراردادِ مقاصد علامہ شبیر احمد عثمانی کا عظیم کارنامہ ہے جو تاریخ پاکستان میں ہمیشہ زریں حروف میں لکھا جائے گا۔
      قائد اعظم محمد علی جناح کی وصیت کے مطابق ان کی نماز جنازہ بھی آپ نے پڑھائی۔ ماہ دسمبر کے دوسرے ہفتے مورخہ13دسمبر1949ء کو بغداد الجدید (بہاولپور) میں آپ کا انتقال ہوا۔ بعد ازاں آپ کی میت کراچی لائی گئی جہاں اگلے روز 14؍ دسمبر 1949ء کو انہیں اسلامیہ کالج کے احاطے میں دفن کردیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے پڑھائی۔
      ***
      @Ubaid



      کہتے ہیں فرشتے کہ دل آویز ہے مومن
      حوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن

    2. The Following User Says Thank You to intelligent086 For This Useful Post:

      Moona (12-03-2017)

    3. #2
      Star Member www.urdutehzeb.com/public_html Ubaid's Avatar
      Join Date
      Nov 2017
      Location
      Dubai U.A.E
      Posts
      433
      Threads
      138
      Thanks
      118
      Thanked 130 Times in 95 Posts
      Mentioned
      242 Post(s)
      Tagged
      5 Thread(s)
      Rep Power
      1

      Re: قیام پاکستان کے لئے علامہ شبیر احمد عثمان&

      Masha Allah.

      یوں تو سیّد بھی ہو' مرزا بھی ہو'افغان بھی ہو
      تم سبھی کچھ ہو' بتاؤ تم مسلمان بھی ہو ؟

    4. #3
      Vip www.urdutehzeb.com/public_html Moona's Avatar
      Join Date
      Feb 2016
      Location
      Lahore , Pakistan
      Posts
      5,477
      Threads
      0
      Thanks
      6,224
      Thanked 3,794 Times in 3,729 Posts
      Mentioned
      527 Post(s)
      Tagged
      114 Thread(s)
      Rep Power
      7

      Re: قیام پاکستان کے لئے علامہ شبیر احمد عثمان&

      Subhan Allah
      Soulful info
      Jazak Allah


      Politician are the same all over. They promise to bild a bridge even where there is no river.
      Nikita Khurshchev

    + Reply to Thread
    + Post New Thread

    Thread Information

    Users Browsing this Thread

    There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

    Visitors found this page by searching for:

    Nobody landed on this page from a search engine, yet!
    SEO Blog

    Tags for this Thread

    Posting Permissions

    • You may not post new threads
    • You may post replies
    • You may not post attachments
    • You may not edit your posts
    •