شفیق الرحمان کا افسانہ اور مزاح
صائمہ کاظمی
شفیق الرحمان اردو ادب کے ان مزاح نگاروں میں شامل ہیں جنہوں نے آزادی سے قبل لکھنا شروع کیا اور آزادی سے قبل ہی ادبی شہرت سے ہم کنار ہو گئے۔ شفیق الرحمان کے درج ذیل افسانوی مجموعے 1947ء تک شائع ہو چکے تھے: کرنیں، شگوفے، لہریں، پرواز، مدوجزر، حماقتیں۔ 1947ء کے بعد ایک افسانوی مجموعہ مزید حماقتیں (1954ء) منظر عام پر آیا۔ شفیق الرحمان نے افسانہ لکھنے کی ابتدا نیم رومانی انداز میں کی تھی۔ ابتدائی دور کے عشقیہ افسانوں سے اندازہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ مزاح نگاری میں اپنا نام پیدا کر سکتے تھے۔ ان کے پہلا افسانوی مجموعہکرنیں نیم رومانوی، عشقیہ اور نیم مزاحیہ افسانوں پر مشتمل تھا۔ شگوفے میں مزاح کا تناسب نسبتاً زیادہ ہے جب کہ لہریں اور پرواز کے بیشتر افسانے خالص مزاح کے زمرے میں آتے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس انور قاضی کی رائے میں: شفیق الرحمان کے افسانے مزاحیہ رجحانات کے بجائے رومانی رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس رومانیت میں وہ مایوسی، انتشار، ہجر اور تنہائی کی بجائے شگفتگی، قہقہے، خوشیاں اور رفاقت کا احساس پیدا رکرتے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس انور قاضی کی یہ رائے شفیق الرحمان کے ابتدائی دور کی تحریروں پر تو صادق آتی ہے لیکن مجموعی حیثیت سے شفیق الرحمان کے افسانوں میں مزاح کے رجحانات واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ شفیق الرحمان کے افسانوں میں طنز کی بجائے ظرافت کے عناصر غالب ہیں وہ اپنی تحریروں میں مسکراہٹ ہی کے نہیں قہقہوں کے قائل نظر آتے ہیں۔ حجاب امتیاز علی رقم طراز ہیں: وہ (شفیق الرحمان) اپنی روانی میں بلاتکلف ننھی ننھی پُھل جھڑیاں چھوڑے چلے جاتے ہیں وہ ان کم یاب لوگوں میں سے ہیں جن کی خوشی طبعی اپنے اوپر بلاتکلف ہنس سکتی ہے۔