حکایت سعدیؒ ایک فقیر اور متکبر مال دار

ایک حاجت مند فقیر مدد کے لیے کسی مالدار کے پاس گیا اس نے بجائے کچھ دینے کے فقیر کو ڈانٹ دیا۔ فقیر نے خون جگر پیتے ہوئے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور کہا! شاید اس نے اس قدر سختی اس لیے کی ہے کہ یہ کبھی حاجت مند ہو ہی نہیں۔ مالدار کو یہ بات سن کر مزید غصہ آیا اور غلام کو حکم دیا کہ اس کو دھکے مار مار کر باہر نکال دو۔ خدا کا کرنا ایسا ہو اکہ یہ مالدار بالکل کنگال ہو گیا۔ نہ مال رہا اور نہ غلام۔ بھوک نے اس کے سر پہ فاقے کی گرد جما دی اور ہاتھ اور جیب خالی ہو گئی۔ زمانہ گزرا کہ وہ غلام جس نے فقیر کو دھکے دے کر نکالا تھا کسی مالدار کے پاس گیا جو بہت ہی سخی تھا۔ وہ پریشان مسکین کو دیکھ کر ایسے خوش ہو اجیسے مسکین مال کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اس مالدار نے غلام کو حکم دیا کہ اس سائل کو خوش کردے۔ دستر خوان بچھ گیا اور کھانے کے لیے سائل کو ساتھ بٹھا لیا گیا کہ اس نے زور سے نعرہ لگایا، رخساروں پہ آنسو ٹپکے اور دوڑ کر پہلے مالک کے پاس آیا۔ اس نے پوچھا! کیا ماجرا ہے، تو غلام نے بتایا کہ میں آج ایک سخی مالدار کے پاس گیا ہوں یقینا وہی ہے جس کو تیرے حکم سے میں نے دھکے مار مار کر نکالا تھا۔ اللہ تعالیٰ حکمتاً اگر ایک دروازہ بند کرتا ہے تو اپنے فضل و کرم کا دوسرا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس حکایت سے سبق ملتا ہے کہ فقیروں اور سائلوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کل کو ہو سکتا ہے کہ خدائے قادر مطلق فقیر کو غنی کر دے اور مالدار کو فقیر بنادے۔