بچے کی اچھی صحت کی نشانیاں


کنیز زہرہ
بچے کی ابتدائی زندگی کے چند دنوں کے دوران اس کے پاخانے کا رنگ سیاہی مائل ہوتا ہے۔ جب یہ سیاہی مائل مادہ بچے کے جسم سے خارج ہو جاتا ہے تو پاخانے کی رنگ تازہ پھینٹے ہوئے انڈے کی زردی کی طرح نظر آتی ہے۔ بوتل سے دودھ پینے والے بچے کے مقابلے میں ماں کا دودھ پینے والے بچے کے پاخانے کا رنگ زیادہ زرد ہوتا ہے۔ پاخانے میں سفید پھٹکیاں نہیں ہونی چاہئیں اول اول بچہ چوبیس گھنٹوں میں دو یا تین دفعہ پاخانے کرتاہے۔ لیکن جب بچہ ماں کے دودھ کا عادی ہو جاتا ہے تو وہ دن میں عموماً ایک مرتبہ یا ہر دوسرے یا تیسرے دن پاخانہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماں کا دودھ بچہ آسانی سے ہضم کر لیتاہے۔ اس دود ھ میں کم و بیش کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو ضائع ہونے والی ہو۔ ماں کے لیے اس حقیقت کا سمجھنا بڑا ضروری ہے۔ کیونکہ اکثرمائیں اور بالخصوص پہلے بچے والی مائیں اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتی ہیں کہ اگر بچہ دیر کے بعد پاخانہ کرتا ہے تو ان کے خیا ل میں بچے کو قبض ہے چنانچہ وہ قبض دور کرنے کے لیے دوا استعما ل کرتی ہیں۔ حالانکہ بلاوجہ دوا کا استعمال کرنا غلطی ہے۔ جب تک بچہ بظاہر تندرست نظر آتا ہے، اس کی صحت کی رفتار میں کوئی رکاوٹ نہیں پائی جاتی، اگر وہ خوب سوتا ہے خوش رہتا ہے اور شگفتہ دکھائی دیتا ہے۔ اور پاخانہ کرنے کی وجہ سے اس کا معدہ بھی صاف رہتا ہے۔ ماں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اسے قبض نہیں ہے۔ جب تک کہ ماں کا دودھ اس کی قدرتی غذا ہے کسی علاج یا دوا کی ضرورت نہیں۔ انفرادی طورپر بچوں کی نشوونما کی رفتار میں بڑا فرق پایا جاتا ہے مثلاً بعض بچے چلنے سے پہلے بولنا شروع کر دیتے ہیں اور بعض بولنے سے پہلے چلنا سیکھ جاتے ہیں۔ اکثر بچے ایک سال کی عمر میں چند دانت نکال لیتے ہیں۔ اگر بچے کی نشوونما کی رفتار میں نمایاں طورپر کمی پائی جاتی ہے تو ماں کو پریشانی کا ازالہ کرنے کے لیے ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنا چاہیے لیکن ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنے سے پہلے خود ماں کو بچے کی پرورش کے متعلق اپنی روش کا جائزہ لینا چاہیے۔ بچے کب بولنا شروع کر تے ہیں؟ بچے کے منہ سے جب پہلی مرتبہ اپنے باپ کے لیے بابا یا ابو یا ماں کے لیے ما ں کا لفظ نکلتا ہے تو اسے قدرتی طورپر خوشی ہوتی ہے۔ اسی خوشی کے سبب وہ گھر کے سب آدمیوں کو بتاتی ہے کہ آج منے یا منی نے بولنا شروع کر دیا ہے۔ وہ بھی ماں اور باپ کو مبارکباد دیتے ہیں۔ ان الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بچہ دنیا میں سب سے پہلے اپنا تعلق براہ راست ماں اور باپ سے ظاہر کرتا ہے اور اس بنا پر وہ ماں کی گو د کو اپنی جائے پناہ سمجھتا ہے حالانکہ وہ بابا یا ابو کا مفہوم بالکل نہیں سمجھ سکتا۔ لیکن با پ اور ماں کے لیے جو آواز ا س کے منہ سے نکلی ہے اس سے اتنا گمان ضرور ہوتاہے کہ خود قدرت اسے یہ بتا رہی ہے کہ دیکھو یہ تمہاری ماں ہے یہ تمہارا باپ ہے جنہیں تمہاری پرورش اور تربیت کا کام سپرد کیا گیا ہے بعض بچے جب آٹھ یا نو مہینوں کے ہوجاتے ہیں تو ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنی قوت گویائی کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ عجیب بات ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں اکثر پہلے بولنا شروع کر دیتی ہیں ڈیڑھ دو سال کی عمر میں بعض لڑکیوں کی زبان میں اس قدر روانی پیدا ہو جاتی ہے کہ سننے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ رینگ کر اور لڑکھڑا کر چلنے والے بچے کی قوت گویائی کو گھر کی اشیا سے بڑی مدد ملتی ہے۔ وہ جس چیز کو چھوتا ہے یا پکڑتا ہے اپنی ماں سے اس کا نام دریافت کرتاہے اور جب ماں نام بتاتی ہے تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گھر کی چیزوں کے نام بارہا سنتا ہے تو وہ خود بھی نہ صرف ان کے نام بلکہ ان سے کام بھی لیتا ہے۔ مثلاً جب وہ صبح کے وقت میز پر چائے دانی، چمچے، پرچ پیالیاں دیکھتا ہے اور اپنے باپ کے ساتھ ایک چھوٹی سی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے تو ان سب چیزوں کے نام اسے یاد ہو جاتے ہیں، وہ انہیں خوب یاد رکھتاہے۔ پیدائش سے چار پانچ ماہ کے بعد بلکہ ا س سے بھی پہلے ماں بچے سے پیار کرنے کے ساتھ اس سے باتیں بھی کرتی جاتی ہے، گھر کی بڑی بوڑھیاں بھی ا س سے باتیں کرتی ہیں وہ گو ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتالیکن ماں اور قریبی رشتہ داروں کی جو محبت بھری آوازیں اس کے کانوںکے اندر داخل ہوتی ہیں وہ یقینا بے اثر نہیں رہتیں۔ اس عمر کا کمسن بچہ گو ما ں کی باتوں کو خوب پہچانتا ہے۔ کیونکہ وہ بچے کے ساتھ سایے کی طرح لگی رہتی ہے اوراس کا آرام کا خیال رکھتی ہے۔ اس امر کا خیال رکھا جائے کہ جب بچہ بولنا شروع کر دے تو کبھی اس کی باتوں کا جواب لفظوں کو بگاڑ کر نہ دیاجائے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ بچے سے ایسے الفاظ میں بات کرنی چاہیے جو صاف اور سیدھے ہوں اور جنہیں وہ فوراً سمجھ جائے۔ جو بچہ پیدائشی بہرا ہو اور کچھ عرصے تک ماں باپ کو اس کے بہرا ہونے کا علم نہ ہو تو اس میں باتیں کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہو گی ظاہر ہے کہ جب وہ ماں کی آواز ہی نہیں سنے گا تو وہ اس کی باتوں کا جواب کیسے دے سکتا ہے۔ لیکن ماں کو پہلے بھی اس بات کا یقین ہوجانا چاہیے کہ قدرت نے اس کے بچے کو قوت گویائی کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے۔ آزمائش کا طریقہ یہ ہے کہ ماں بچے کے پیچھے کھڑی ہوجائے کہ بچہ اسے نہ دیکھ سکے پھر وہ ایک رکابی پر جو بچے کے سامنے پہلے سے رکھ دی گئی ہو پیسہ یا کوئی سخت چیز گرائے۔ اگر بچے نے رکابی پر پیسے کے گرنے کی آواز سن لی تو وہ فوراً مڑ کر دیکھے گا۔ یا ا س کے کان کے نزدیک شیشے کے گلاس پر چمچے کی ہلکی ضرب لگائی جائے تو وہ فوراً پلٹ کر دیکھے گا کہ یہ آواز کہا ں سے آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک انگریز خاتون اپنے ذاتی مشاہدے کی بنا پر لکھتی ہے کہ مجھے دو ایسے بچوںکا علم ہے جو تین سال کی عمر میں ایک لفظ بھی نہ بول سکتے تھے حالانکہ وہ بڑے ذہین اورہونہار نظرآتے تھے وہ فی الحقیقت بہرے تھے۔ مگر ان کی مائیں اس المناک حقیقت سے بے خبر تھیں۔ ٭٭٭