قیام پاکستان کے بعد انشائیہ




ڈاکٹر ہاجرہ بانو
تقسیم کے فوراً بعد انشائیہ نے پاکستان کے عوام و خواص کو بھی حقیقت کی دنیا کی سیر کرا دی۔ اس حوالے سے وزیر آغا، نصیر آغا، داؤد رہبر، جاوید صدیقی، ممتاز مفتی اور امجد حسین وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں۔ سماج کے سلگتے مسائل، تقسیم کے بعد کے دکھ درد، اپنوں کے بچھڑنے کا غم، زن، زر، زمین کے کھونے کا چبھتا احساس، مصیبتوں کے پہاڑ سہتے سہتے مشکور حسین یاد، مشتاق قمر، جمیل آذر، غلام جیلانی اصغر نے عوام کو ایک نئی اصلاحی تحریک میں جھونک دیا۔ یہ تمام قدیم روایات کے تابع تھے۔ دوسرے ان کے ہاں منطقی انداز بڑی حد تک پایا جاتا تھا۔ جس کی مدد سے وہ ادب کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں مقام بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے بعد نئے لکھنے والوں میں رام لعل نابھوی، محمد اسعد اللہ، حیدر قریشی، عبدالقیوم، حامد برگی، انجم نیازی، بشیر سیفی، جان کاشمیری، شمیم ترمذی، محمد اقبال انجم، خالد پرویز صدیقی، حنیف باوا، خیرالدین انصاری، پرویز عالم، طارق عباسی، رشید گوریجہ، محمد یونس بٹ، مشتاق احمد، ناصر عباس نیر، ڈاکٹر نعیم احمد، منور عثمانی، محمد بصیر رضا، جاوید اصغر، مختار پارس، صفدر رضا صفی، جاوید حیدر جوئیہ، رعنا صدیقی، اظہر ادیب، راجہ ریاض الرحمان، محمد عامر رعنا، عذرا اصغر، شفیع بلوچ، پروین طارق، یاسین یونس وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اصناف کی ہیئت اور اس کے موضوعات بدلتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں انشائیہ اپنی ایک علیحدہ شناخت بناتا ہے اور نہ صرف بناتا ہے بلکہ وہاں اس کی اپنی حیثیت منفرد اور عوام میں شرف قبولیت اس کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ ہم پاکستان میں اس صنف نثر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں تو جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ وہاں اردو انشائیہ کو 1988ء میں یوں فروغ ملا کہ اس صنف کی ایک کانفرنس لودھراں میں اور ایک سیمینار اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں منعقد ہوا۔ انشائیہ کے موضوع پر ٹیلی ویژن نے ایک مذاکرہ کرایا۔ ماہنامہ اردو زبان نے انشائیہ نمبر اور اوراق نے انشائیہ کی بیلو گرافی شائع کی جو ڈاکٹر بشیر سیفی نے بڑی محنت سے مرتب کی ہے۔ ڈاکٹر شفیق احمد نے بہاولپور یونیورسٹی سے انشائیے کی ایک کتاب ’’انتخاب‘‘ شائع کی۔ محمد اقبال انجم کے انشائیوں کا مجموعہ 21 دسمبر 1988ء میں منظر عام پر آیا۔ خیر الدین انصاری، سعید خاں، بہزاد سحر، محمد ہمایوں خان، سلیم ملک، عابد صدیقی، قمر اقبال اور علی اختر کو انشائیہ کے میدان میں ابتدائی تعارف کے بعد استحکام ملا۔ اس اجمال میں مزید یہ عرض کرنا ہے کہ اردو کے ممتاز شاعر شہزاد احمد نے ایک ’’درخت‘‘ کے عنوان سے ایک معرکے کا انشائیہ لکھا۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی خیال انگیزی ’’پل‘‘ اور جمیل آذر کی نکتہ آفرینی ’’نیکی‘‘، ’’دریا سمندر‘‘ میں ظاہر ہوئے۔ اس سال متعدد اچھے انشائیہ لکھے گئے۔ ان میں سے اکبر حمیدی کا ضمیر کی مخالفت میں اور ’’موڑ‘‘ ارشد میر کا ’’ٹوپی‘‘ اور ’’موڈ‘‘۔ حامد برگی کا ’’عام آدمی‘‘ اور’’ سہ پہر‘‘، انجم نیازی کا ’’فل اسٹاپ‘‘ اور ’’سوچنا‘‘ اظہر ادیب کا ’’گھڑا‘‘ محمد اسد اللہ کا ’’تیسری شادی‘‘ امجد طفیل کا ’’تنہائی‘‘ رشید احمد گوریجہ کا ’’ضرب تفریق‘‘ علی اختر کا ’’گرگٹ‘‘ خیر الدین انصاری کا ’’قاری‘‘ اس صنف کے اچھے اور نمائندہ انشائیے ہیں۔ سلیم آغا قزلباش کا ’’نام میں کیا رکھا ہے‘‘ اس موضوع کا انوکھا زاویہ ابھارتا ہے۔ سلیم آغا نے انگریزی انشائیوں کے تراجم پر مشتمل ایک کتاب مرتب کی ہے جس کا عنوان ’’مغرب کے انشائیے‘‘ ہیں۔ مزاح کا ایک بڑا مقصد ہنسی، یا مسکراہٹ پیدا کرنا ہے اور ہنسی کی تحریک کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ 1988ء کے ادبی منظر کو دیکھیں تو پیروڈی، رعایت لفظی، ضلع جگت، پھبتی، تضحیک، بذلہ، رمز طنز اور صورت واقعہ سے مزاح پیدا کرنے اور پڑھنے والوں کو مسرت کا سامان فراہم کرنے کی کوشش نمایاں نظر آتی ہے اور اظہار کے اس انداز کو جن لوگوں نے زیادہ استعمال کیا ان میں سید ضمیر جعفری، ارشد میر، اقبال ساغر صدیقی، محمد کبیر خاں منظر، نیاز سواتی، سرفراز شاہد، رشید احمد گوریجہ، عاصی کرنالی، سلیمان عبداللہ، مظفر بخاری، ضیا الحق قاسمی، انور مسعود، دلاور فگار، محمد طہٰ خان، عاصی سعید، ابن الامام شیفتہ، دلیپ سنگھ اور مشفق خواجہ نصر اللہ خان کے نام بہت اہم ہیں اور یہ1988ء میں قہقہہ بار نظر آتے ہیں۔ راولپنڈی کے ایک رسالہ ’’اردو بنچ‘‘ اورحیدر آباد پاکستان کے رسالہ ’’ظرافت‘‘ نے بھی انشائیوں کے ذریعے مسکراہٹیں بکھیری ہیں۔ ٭…٭…٭