حکایات سعدی کنجوس کا مال



یان کیا جاتا ہے کہ ایک مال دار سوداگر اس قدر کنجوس تھا کہ مہمانوں کے لیے اس کا دروازہ ہمیشہ بند اور دستر خوان لپٹا ہوا رہتا تھا۔ ایک بار اس نے سامانِ تجارت جہاز پر لادا اور ملک مصر کی طرف روانہ ہوا۔ غرور سے اس کی گردن یوں اکڑی ہوئی تھی کہ گویا اس زمانے کا فرعون ہو۔ اسے یقین تھا یہ تجارتی سفر اس کے لیے بہت زیادہ نفع رساں ثابت ہو گا لیکن ہوا یہ کہ جب وہ آدھا راستہ طے کر چکا تو سمندر میں طوفان آگیا اور اس بخیل کا جہاز غرق ہو گیا۔ طوفان کے آثار دیکھ کر اس بخیل نے بہت دعائیں مانگیں لیکن دعاؤں سے اسے کچھ فائدہ نہ پہنچا۔ ایسے شخص کی دعا شاید مشکل سے قبول ہوتی ہے جس کے ہاتھ مانگنے کے لیے تو خدا کے سامنے پھیل جائیں لیکن کسی کو کچھ دینا پڑے تو بغلوں میں چھپا لے۔ اس بخیل کا چھوڑا ہوا مال اور جائیداد اس کے ان غریب رشتے داروں کے ہاتھ آئی جنہیں اس نے زندگی میں کبھی نہ پوچھا تھا اور وہ خوب شان و شوکت سے زندگی گزارنے لگے۔ گر خدا نے مال بخشا ہے تو اس کو خرچ کر خود بھی راحت اس کی پا اوروں کو بھی آرام دے یاد رکھ اک روز یہ گھر چھوڑنا ہو گا تجھے جمع جس میں کر رہا ہے سونے چاندی کے ڈلے حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں بخیلوں کے حسرت ناک انجام سے آگاہ کیا ہے اور وہ بلا شبہ یہ ہے کہ ایک دن موت اچانک انہیں آلیتی ہے اور وہ مال جسے انہوں نے بصد دشواری حاصل کیا تھا، دوسروں کو مل جا تا ہے جو خوب عیش کرتے ہیں۔ ٭…٭…٭ -