انٹرنیٹ بڑھاپے کا سہارا بن سکتا ہے




رضوان عطا
ہمارے اردگرد متعدد ایسے افراد مل جاتے ہیں جو انٹرنیٹ استعمال کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ ان میں شاید ہی کوئی نوجوان ہو، تقریباً یہ تمام افراد عمر کے اس حصے میں ہوتے ہیں جسے بڑھاپا کہا جاتا ہے یا کم از کم وہ جوانی کے ایام گزار چکے ہوتے ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی ترقی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پاتے یا اس کی جستجو نہیں کرتے۔ لیکن اگر وہ اس کے فوائد سے آگاہ ہو جائیں تو اسے سیکھنے کے جتن کرنے لگیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد زیادہ تر افراد کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کریں۔وہ تنہائی محسوس کرتے ہیں کیونکہ گھر کے نوجوان ان سے کتراتے ہیں۔ نوجوانوں کی دلچسپیاں مختلف ہوتی ہیں جس کی ایک بڑی وجہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہے۔ عمر رسیدہ افراد سمارٹ فون سے کئی مرتبہ تنگ آئے ہوتے ہیں کیونکہ انہیں نت نئے فنکشنز کی سمجھ نہیں آتی اور پھر وہ کسی نوجوان کی طرف سمارٹ فون سمیت ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ فون چونکہ رابطے کی ضرورت ہے اس لیے بزرگوںکے ہاتھ میں کسی طور آ جاتا ہے۔سمارٹ فون تو ایک حد تک مجبوری بن چکا ہے ۔ پھر کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اولاد سے بطور تحفہ مل جاتا ہے۔ تاہم ایسے عمر رسیدہ افراد کو بھی تلاش کیا جاسکتا ہے جو سمارٹ فون کے فنکشنز پر عبور رکھتے ہیں اگرچہ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ بہرحال انٹرنیٹ کی جانب خود بڑھنا پڑتا ہے۔ نسبتاً زیادہ عمر کے افراد اس سے گریز کرتے ہیں۔ یہ رویہ بہتر نہیں۔ ملازمت میں آسانی:بہت سے افراد جنہوں نے ابھی بڑھاپے میں قدم نہیں رکھا مگر عمر کا بیشتر حصہ گزار چکے ہیں اور وہ ملازمت کرتے ہیں ان کی انٹرنیٹ سے عدم واقفیت متعدد مسائل پیدا کرنے کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع کم کر دیتی ہے۔ اگر کوئی رپورٹر ای میل کی سہولت سے استفادہ حاصل نہیں کرسکتا یا ایک فوٹو گرافر بڑی فائل کو انٹرنیٹ کے ذریعے منتقل کرنے سے ناواقف ہے تو اس کی کارکردگی متاثر ہوگی۔ انٹرنیٹ سے بہتر جان کاری ان کی کارکردگی میں اضافے کا باعث بنے گی۔ نقل وحرکت میں سہولت:اب سستی اور مطلوبہ مقام پر ٹرانسپورٹ کی سہولت انٹرنیٹ کی محتاج ہو چکی ہے۔ پاکستان میں ’’اوبر‘‘ اور ’’کریم‘‘ جیسی سہولیات میسر ہوچکی ہیں جن کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال لازم ہے۔ ان کی مدد سے ارزاں نرخوں پر اچھی ٹرانسپورٹ مل سکتی ہے۔ عمررسیدہ افراد کے لیے خود گاڑی چلانا یا پبلک ٹرانسپورٹ کو استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کی مدد سے ہوٹلوں، ہوائی جہاز اور بسوں کی بکنگ کی جاسکتی اور اس کے لیے عمر رسیدہ کسی کی منت کرنے یا مدد لینے کے محتاج نہیں رہتے۔ وہ گھر بیٹھے یہ کام کر سکتے ہیں۔ گھر بیٹھے کام:بڑھاپے میں جسمانی کمزوری کے باعث نقل و حرکت میں کمی واقع ہو جاتی ہے جس کا ازالہ بھی انٹرنیٹ سے کیا جاسکتا ہے۔ عام تصور یہی ہے کہ ملازمت کے لیے گھر سے نکلا پڑتا ہے لیکن انٹرنیٹ کی مدد سے دنیا بھر سے رابطہ ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ گھر میں بیٹھ کر بھی بہت سا کام کیا جاسکتا ہے اورآمدن حاصل کی جاسکتی ہے۔ بہت سی فری لانس ملازمتیں انٹرنیٹ کی مدد سے دور بیٹھ کر کی جارہی ہیں۔ مثال ‘‘فری لانسر’’ ویب سائٹ کے ذریعے سب سے زیادہآمدن پانے والوں میں پاکستانیوں کا شمار ہوتا ہے۔ اگر عمر رسیدہ انٹرنیٹ سیکھیں گے تو وہ اپنی دلچسپی کے کام کر سکیں گے۔ کئی بار من مرضی کے کام ریٹائرمنٹ کے بعد ہی کیے جا سکتے ہیں کیونکہ انسان عمر کا ایک بڑا حصہ اس ملازمت میں بِتادیتا ہے جو اسے پسند نہیں ہوتی لیکن پیٹ بھرنے کے لیے وہ مجبوری ہوتی ہے۔ نیز انٹرنیٹ تک رسائی سے ان عمر رسیدہ افراد کو مالی وسائل مل سکتے ہیں جنہیں ان کے اپنے ترک کر دیتے ہیں یا جن کی عمر کو دیکھ کر ملازمت نہیں دی جاتی۔ صحت کا خیال:بیماریاں بڑھاپے کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں اور اس کی آمد پر چپک جاتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر صحت سے متعلق مشورے اور معلومات آسانی سے مل جاتی ہے جن سے مستفید ہوا جا سکتا ہے۔ تنہائی کا حل:بڑھاپے میں تنہائی ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ جن افرادکے میاں یا بیوی کا انتقال ہو چکا ہوتا ہے ان کے لیے اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ بچے بڑے ہو کر اپنا گھر بسالیتے ہیں اور روزگار یا بہتر موقعے یا مقام کی تلاش شہر یا ملک بدر کر دیتی ہے۔ یوں ماں، باپ یا دونوں تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انٹرنیٹ اپنوں سے رابطے کا ارزاں، تیز رفتار اور عمدہ ذریعہ ہے۔ آج کل وٹس ایپ پر فون کال نیٹ ورک کال سے سستی پڑتی ہے لیکن اسے وہی استعمال میں لا سکتا ہے جو انٹرنیٹ کے ساتھ سمارٹ فون کی اپلی کیشنز سے واقف ہو۔ پرانے دوستوں کو تلاش کرنے کا کام بھی خوب کیا جاسکتا ہے۔ فیس بک سالوں سے بچھڑے ہوئے افراد کو ملانے میں انتہائی مفید ہے۔ عمر رسیدہ افراد بھی اپنے کالج اور یونیورسٹی کے دوستوں یا پرانے ساتھیوں کو پا کر جوانی کی یادیں تازہ کر سکتے ہیں۔ تاہم یاد رکھنا چاہیے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی ملاقات آمنے سامنے کی ملاقات کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ اولاد یا دوست چاہے جتنی بات یا وڈیو چیٹ کر لے ان آ کریا جا کر ملنا کچھ اور معنی رکھتا ہے۔ صرف اپنوں سے رابطہ ہی نہیں سماجی و سیاسی معاملات میں شرکت انسان کو متحرک رکھتی ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے نہ صرف سیاسی اور سماجی حالات سے باخبر رہا جاسکتا ہے بلکہ زندگی کے تجربوں کا نچوڑ دوسروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تفریح:انٹرنیٹ پر بہت سے کھیل کھیلے جاسکتے ہیں۔ ان میں نئے اور پرانے دونوں کھیل شامل ہیں۔ مثال کے طور پر شطرنج کا کھیل کھیلنے کے لیے کسی کے پاس ہونے کی ضرورت نہیں رہتی۔ دور کسی دوسرے ملک میں بیٹھے کھلاڑی کو مات کیا جاسکتا ہے۔ آمدن کا بہتر استعمال:سرکاری ملازموں کو ریٹائرمنٹ کے بعد عام طور پر ایک بڑی رقم ملتی ہے۔ بعض افراد نے انشورنش وغیرہ کرا رکھی ہوتی ہے جن کی معقول رقم جمع ہو چکی ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ رقم کے معقول استعمال کی صلاح دینے کا ذریعہ بھی ہے اور اس کے ذریعے مزید سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ بہت سی سرمایہ کار کمپنیاں اب آن لائن ہیں۔ بینکوں کی آفرز بھی آن لائن آسانی سے تلاش کی جاسکتی ہیں۔ وقت آن پہنچا ہے کہ عمر میں اضافے کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ کی دنیاسے ہم آہنگ کیا جائے۔اس عمل میں عمر رسیدہ افراد کے لیے تربیتی اداروں کے قیام کی ضرورت ہے ۔ نوجوانوں کو بھی اپنے بزرگوں کو اس نئی دنیا کے بارے زیادہ سے زیادہ آگاہ کرنا چاہیے۔ ٭…٭…٭