. .


Sehri Special Recipes



Iftaar Special Recipes



Need Your Feed Back


  • You have 1 new Private Message Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out this form.
    .

    User Tag List

    + Reply to Thread
    + Post New Thread
    Results 1 to 4 of 4

    Thread: غلط فہمی

    1. #1
      Administrator Admin intelligent086's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Location
      لاہور،پاکستان
      Posts
      38,362
      Threads
      12080
      Thanks
      8,617
      Thanked 6,929 Times in 6,467 Posts
      Mentioned
      4324 Post(s)
      Tagged
      3289 Thread(s)
      Rep Power
      10

      غلط فہمی





      غلط فہمی سماج ایک ایسے انسانی مجموعہ کا نام ہے ،جہاں بہت سے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ فطرت کے نظام کے تحت ہر ایک کا کام الگ الگ ہوتا ہے۔ ہر ایک کا فائدہ الگ الگ ہوتا ہے۔ ہر ایک کا میدانِ عمل الگ الگ ہوتا ہے۔ ہر ایک کی سوچ الگ الگ ہوتی ہے۔ اس بنا پر بار بار آپس میں شکایتیں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ شکایتیں بڑھتے بڑھتے دشمنی تک پہنچ جاتی ہیں اور پھر مزید تلخ واقعات پیدا ہوتے ہیں۔ان شکایتوں کا سبب زیادہ تر حالات میں صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ غلط فہمی ہے۔ غلط فہمی (misunderstanding) اتنی زیادہ عام ہے کہ وہ ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ خاندان میں، ادارہ میں، پڑوس میں، یہاں تک کہ قومی اور بین اقوامی سطح پر بھی۔ غلط فہمی اکثر بے بنیاد ہوتی ہے، کسی سماج میں اکثر اجتماعی نزاعات غلط فہمی ہی کے سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔ غلط فہمی کیا ہے۔ غلط فہمی دراصل ناقص واقفیت کی بنا پر کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اکثر لوگوں کاحال یہ ہے کہ وہ کسی کے بارہ میں ایک بات سنتے ہیں اور اْسی کی بنیاد پر اْس کے بارے میں اپنی رائے بنا لیتے ہیں۔ یہی مزاج اکثر حالات میں غلط فہمی کا سبب ہوتا ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کسی شخص کے بارے میں کوئی منفی بات ذہن میں آئے یا کوئی بری بات معلوم ہو تو کبھی ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ فوراً ہی اس کو درست مان لیا جائے۔ اس کے بجائے ضروری ہے کہ اس کی پوری تحقیق کی جائے۔ تمام ضروری پہلوؤں کو جانچنے سے پہلے ہر گز اس کو مان نہ لیا جائے۔ اس طرح کے معاملہ میں آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے یا تو وہ سنی ہوئی بات پر دھیان نہ دے ،وہ اس کو نظر انداز کردے اور کسی سے اس کا چرچا نہ کرے۔ یہ اس طرح کے معاملہ میں محفوظ طریقہ ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اس طرح کی بات پر بولنا چاہتا ہے یا اس کا چرچا کرنا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی تحقیق کرے۔ تحقیق میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ صاحب معاملہ سے اس کی حقیقت معلوم کرے۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد ہی وہ اس پر بولنے کا حق رکھتا ہے۔ صبر کا فائدہ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے شکایت ہوجاتی ہے۔ ایک کی کسی بات سے دوسرے کے اندر غصہ اور نفرت کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایک کا کوئی رویہ دوسرے کے اندر انتقامی جذبات بھڑکا دیتا ہے۔ ایسے موقع پر اکثر لوگ بدلہ کے ذہن سے سوچنے لگتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اپنی بے عزتی پر چپ ہوجائیں تو یہ ہماری غیرت کے خلاف ہوگا۔ یہ حمیت اور غیرت سے سودا کرنے کے ہم معانی ہوگا،مگر یہ سوچ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا موقع ذلت کا موقع نہیں بلکہ وہ فکری اور روحانی ترقی حاصل کرنے کا موقع ہے۔ غصہ کے موقع پر صبر کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ دراصل خود اپنی تربیت کا موقع ہے۔ وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنے کا موقع ہے کہ آدمی اپنی داخلی شخصیت کو اتنا مضبوط بنائے کہ وہ خارجی حالات سے اثر لیے بغیر زندہ رہ سکے۔جو آدمی غصہ اور نفرت اور اشتعال میں مبتلا ہوجائے وہ اپنی اس روش سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ خارجی اشتعال انگیزی کے وقت غیر متاثر نہ رہ سکا۔ ایسے آدمی کا ذہنی اور روحانی سفر رک جائے گا۔ اس کی شخصیت میں فکری ارتقاء کا عمل جاری نہ ہوسکے گا۔ اس دنیا میں پانے کی سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ آدمی کا فکر مسلسل ترقی کررہا ہو۔ اسی فکری ترقی سے روحانی ترقی بھی جڑی ہوئی ہے۔ جہاں فکری ارتقاء ہو گا وہاں روحانی ترقی بھی ضرورپائی جائے گی اور یہ فکری ارتقاء اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی اپنے آپ کو اتنا طاقتوربنائے کہ وہ منفی سوچ کو اپنے اندر داخل ہونے سے روک دے۔صبر در اصل خود اپنے فکری اور روحانی ترقی کی قیمت ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی چیز ضروری قیمت کے بغیر نہیں ملتی۔ اسی طرح فکری اور روحانی ترقی بھی اس خوش قسمت انسان کا حصہ ہے جو صبر کی صورت میںاس کی قیمت دے سکے۔ مشورہ کی اہمیت ایک مسلم نوجوان نے ایک تعلیم یافتہ خاتون سے شادی کی۔ یہ لوگ کچھ برسوں تک ایک ساتھ رہے۔ پھر ان کے یہاں دو بچے پیدا ہوئے۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ یہاں تک کہ بیوی اپنے دونوں بچوں کو لے کر اپنے میکہ چلی گئی۔ اب دونوں کے درمیان ایک بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی۔ دونوں طرف سخت باتیں ہونے لگیں۔اس طرح کا موقع بحران کی تنظیم (crisis management) کا موقع ہوتا ہے۔ بحران کو اگر حکمت کے ساتھ دور کرلیا جائے تو وقتی تلخی کے بعد دوبارہ دونوں کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوجائیں گے۔ لیکن اگر بحران کو درست طورپر حل نہ کیا جائے تو معاملہ اور زیادہ بڑھ جائے گا اور پوری زندگی تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ جب کوئی شخص بحران میں مبتلا ہو تو وہ خود زیادہ معتدل انداز میں سوچ نہیں پاتا۔ وہ منفی سوچ یا انتہاپسندی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں مشورہ کی بے حد اہمیت ہے۔ ایسے وقت میں صاحب معاملہ کے ساتھیوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ٹھنڈے ذہن سے سوچ کر معاملہ کی نزاکت کوسمجھیں اور بحران میں مبتلا شخص کو صحیح مشورہ دیں۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بحران کی حالت میں مشورہ دینے والے خود بھی بحران کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مثلاً مذکورہ معاملہ میں جوشخص بحران میں مبتلا ہوا اس کے کچھ ساتھیوں نے اس کو یہ مشورہ دیا کہ تم موجودہ بیوی کو طلاق دے دو اور دوسری شادی کرلو۔ مگر یہ مشورہ سخت تباہ کن تھا۔ اس مشورہ پر عمل کرنے کا یقینی نتیجہ یہ تھا کہ آدمی چھوٹے مسئلہ سے نکل کر زیادہ بڑے مسئلہ میں اپنے آپ کو مبتلا کردے۔ مجھے معلوم ہوا تو میں نے اس آدمی کو مشورہ دیا کہ تم یک طرفہ بنیاد پر اپنی بیوی کے ساتھ مصالحت کرو۔ اپنی زبان پر کنٹرول رکھو۔ بیوی کو یا اس کے رشتہ داروں کو ہر گز برا نہ کہو اور پھر بیوی کے ساتھ معتدل انداز میں نئی زندگی شروع کردو۔ اس نے ایسا ہی کیا اور اب دونوں پر سکون طورپر ایک گھر میں رہ رہے ہیں۔ دو کشتی کی سواری اکثر لوگوں میں یہ کمزوری ہوتی ہے کہ وہ واضح انداز میں سوچ نہیں پاتے۔ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق نہیں کرپاتے۔ اس بنا پر اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو کشتی کی سواری کرنا چاہتے ہیں حالاں کہ دو کشتی کی سواری عملاً ممکن نہیں،مثلاً ایک شخص برصغیرہند میں پیدا ہوتا ہے پھر وہ اپنے وطن کو چھوڑ کر امریکا چلا جاتا ہے۔ یہ ایک سماج سے نکل کر دوسرے سماج میں جانے کا نام ہے۔ بر صغیر ہند کے اندر پابند سماج کا ماحول ہے تو امریکا میں بے قید سماج کا ماحول ہے، مگر مذکورہ شخص امریکا میں قیام کرنے کے باوجود یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے وہاں کے بے قید سماج سے متاثر نہ ہوں۔ اس کے بچے وہاں بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا کلچر اختیار نہ کریں، مگر یہ دو کشتی کی سواری ہے اور دو کشتی کی سوار ی عملاً ممکن نہیں۔ چنانچہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنے بچوں کے بارے میں خلاف امید تجربات پیش آتے ہیں۔ آدمی پیسہ کی فراوانی کے باوجود ذہنی اضطراب میں جینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس دنیا میں آدمی صرف ایک ہی کشتی میں سواری کرسکتا ہے۔ دوکشتی میں سواری کرنا عملاً کسی کے لیے ممکن نہیں۔ دو کشتی کی سواری صرف خیالی طور پر ممکن ہوسکتی ہے۔ عملی طور پر دوکشتی کی سواری کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔اصل یہ ہے کہ آدمی بیک وقت دو قسم کے فائدے حاصل کرنا چاہتا ہے۔اسی دو طرفہ مزاج کی بنا پر وہ دو کشتی میں سواری کرنے کا خیالی منصوبہ بنا لیتا ہے۔ مگر آدمی کو جاننا چاہیے کہ دو کشتی کا سفر صرف خیالات کی دنیا میں ممکن ہے۔ ایسا سفر کبھی حقیقت کی دنیا میں ممکن نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ترجیح کا اصول اختیار کرے۔ وہ ایک چیز کو پانے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنے پر راضی ہوجائے۔ وہ ایک منزل تک پہنچنے کے لیے دوسری منزل کی طرف دوڑنا نہ چاہے۔اس معاملہ میں آدمی کے پاس اس کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں۔



      کہتے ہیں فرشتے کہ دل آویز ہے مومن
      حوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن

    2. The Following User Says Thank You to intelligent086 For This Useful Post:

      Moona (03-11-2018)

    3. #2
      Moderator www.urdutehzeb.com/public_htmlwww.urdutehzeb.com/public_html
      BDunc's Avatar
      Join Date
      Apr 2014
      Posts
      8,431
      Threads
      678
      Thanks
      298
      Thanked 247 Times in 212 Posts
      Mentioned
      694 Post(s)
      Tagged
      6321 Thread(s)
      Rep Power
      114

      Re: غلط فہمی

      khOOB


    4. #3
      Administrator Admin intelligent086's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Location
      لاہور،پاکستان
      Posts
      38,362
      Threads
      12080
      Thanks
      8,617
      Thanked 6,929 Times in 6,467 Posts
      Mentioned
      4324 Post(s)
      Tagged
      3289 Thread(s)
      Rep Power
      10

      Re: غلط فہمی

      رائے کا شکریہ



      کہتے ہیں فرشتے کہ دل آویز ہے مومن
      حوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن

    5. The Following User Says Thank You to intelligent086 For This Useful Post:

      Moona (03-11-2018)

    6. #4
      Vip www.urdutehzeb.com/public_html Moona's Avatar
      Join Date
      Feb 2016
      Location
      Lahore , Pakistan
      Posts
      6,209
      Threads
      0
      Thanks
      7,147
      Thanked 4,114 Times in 4,007 Posts
      Mentioned
      652 Post(s)
      Tagged
      176 Thread(s)
      Rep Power
      9

      Re: غلط فہمی


      Nyc & Informative Sharing

      t4s


      Politician are the same all over. They promise to bild a bridge even where there is no river.
      Nikita Khurshchev

    + Reply to Thread
    + Post New Thread

    Thread Information

    Users Browsing this Thread

    There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

    Visitors found this page by searching for:

    Nobody landed on this page from a search engine, yet!
    SEO Blog

    Tags for this Thread

    Posting Permissions

    • You may not post new threads
    • You may not post replies
    • You may not post attachments
    • You may not edit your posts
    •