>
  • You have 1 new Private Message Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out this form.
    .
    + Reply to Thread
    + Post New Thread
    Results 1 to 3 of 3

    Thread: Kon De Ga Is Sawal Ka Jawab? (کون دے گا اس سوال کا جواب؟ )

    1. #1
      UT Writer www.urdutehzeb.com/public_html Lost Passenger's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Posts
      30
      Threads
      10
      Thanks
      7
      Thanked 13 Times in 9 Posts
      Mentioned
      2 Post(s)
      Tagged
      3342 Thread(s)
      Rep Power
      0

      Kon De Ga Is Sawal Ka Jawab? (کون دے گا اس سوال کا جواب؟ )


      Assalam-o-Alaikum



      Kon De Ga IS Sawal Ka Jawab


      Based on a True Story



      Is tehreer ka kafi hissa ek sachi per mabni hey aur
      is ka kuch hissa mairi zair e takmeel kitab
      Woh(saww) Muntazir hai'n
      sey lia gaya hey






      کون دے گا اس سوال کا جواب؟


      میں آج تک نہیں سمجھھ سکا کہ وہ لوگ جو دین کو عملی طور پر اختیار کرتے ھیں ہم انہیں کم کیوں سمجھتے ہیں ہماری یہ کہانی بھی کچھھ ایسی ہی سوچ رکھنے والے لوگوں سے متعلق ہے۔


      میرا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ علوم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں مذہبی اور دنیاوی اور میں اس پیغام کا علمبردار رہا کہ اگر ترقی کرنا ہے تو پڑھو بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرو کہ آج کی دنیا میں بہت مقابلہ ہے مگر وجیہہ صاحب نے میرے سوچنے کا انداز بدل دیا کیسے آئیے آپ کو بھی بتاتے ہیں۔


      وجیہہ صاحب کو اللہ نے نا صرف ظاہری خوبصورتی عطا فرمائی تھی بلکہ بہت زبردست اخلاق سے بھی نوازا تھا نیچی آواز میں بات کرتے ہر کسی کے ساتھ عزت سے پیش آتے، اللہ نے اُنھیں بڑی عزت دی تھی لوگ اپنے یہاں اُنھیں مدعو کرنا اپنی عزت سمجھتے تھے مجھے حیرت تھی کہ کس طرح انھوں نے نا صرف دنیاوی علوم حاصل کئیے بلکہ دینی علم بھی حاصل کیا ایک بار میں نے پوچھا تو کہنے لگے "علوم تو سارے ھی اللہ کے پیدا کردہ ہیں ان میں سے کچھ ہمیں ہمارے معاش کے حصول میں مدد گار ہوتے ہیں تو وہ علوم جنھیں عام طور پرلوگ صرف مذہب تک محدود کر دیتے ہیں حالانکہ یہ ہی وہ علم ہے جو ہمیں صحیح معنوں میں نا صرف ایک اچھا انسان بناتا ہے بلکہ دنیا میں ایک کامیاب زندگی گذارنے کا سبق دیتے ہوئے آخرت کی زندگی کی کامیابی کی ضمانت بھی دیتا ہے"، صبح پابندی سے تہجد کی ادائیگی کرتے اور اُس کے بعد تلاوت اور اکثر دورانِ تلاوت میں نے اُن کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھے ہیں۔۔۔۔ لیکن آج تواُن کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے میں اُن کے نزدیک کھڑا ہوگیا ہوں ؤہ سورہ لقمان کی ان آیات کوبار بار دہرا رہے ہیں اور روتے جارہے ہیں،


      وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِه وَهُوَ يَعِظُه يٰبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ 13 ؀


      اور جب کہ لقمان نے وعظ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا (١) بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔ (۲)


      وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّه وَهْنًا عَلٰي وَهْنٍ وَّفِصٰلُه فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14؀


      ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی (١) ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر (٢) اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے (٣) کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔


      وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِه عِلْمٌ ۙفَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا ۡ وَّاتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 15؀


      اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راہ چلنا جو میری طرف جھکا ہو (١) تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کردوں گا۔


      يٰبُنَيَّ اِنَّهَآ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِيْ صَخْـرَةٍ اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ اَوْ فِي الْاَرْضِ يَاْتِ بِهَا اللّٰهُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ 16؀


      پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو (١) پھر وہ (بھی) خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور لائے گا اللہ تعا لیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔


      يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلٰي مَآ اَصَابَكَ ۭ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ 17۝ۚ


      اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آئے صبر کرنا (١) (یقین مان) کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے (٢)


      وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ 18؀ۚ


      لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا (١) اور زمین پر اکڑ کر نہ چل (٢) کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔


      وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ 19؀ۧ


      اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر (١) اور اپنی آواز پست کر (٢) یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے۔


      میں نے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا حضرت خیریت ہے بولے ہاں سب خیر ہے میں نے کہا نہیں کچھ بات تو ہے بولے میں جب بھی ان آیات پر آتا ہوں میری یہی حالت ہوتی ہے میں نے پوچھا کیوں تو بولے مجھے اپنا ماضی یاد آتا ہے اور پھر اپنی ذمہ داری یاد آتی ہے تو اپنی کوتاہیوں پر اللہ کے حضور سوائے ندامت آنسو بہانے کے اور کیا رستہ رہ جاتا ہے، میں ان کے پاس بیٹھھ گیا ہوں اور آج وہ ناجانے کس رو میں مجھے اپنی زندگی کا وہ رخ دکھا رہے ہیں جو میں ہمیشہ سے جاننا چھاتا تھا آئیے اُنہی کی زبانی سنتے ھیں،


      "میں نے ایک دین دار گھرانے میں جنم لیا دین دار سے میری مراد یہ ہے کہ ہمارے یہاں نماز روزے کی پابندی کی جاتی ہے اور ہمارا گھرانہ بھی اُنہی بےشمار مسلمان گھرانوں کی طرح ہے جن کا اسلام صرف اُن عبادات تک محدود ہے جو اُس کی ذات تک محدود ہوتی ہیں، میرا انٹر کا رزلٹ آیا تھا میں نے 86% مارکس حاصل کیے تھے اور میرے بھائی نے بھی 80% سے زیادہ مارکس حاصل کیئےتھے میرے والد اور گھر والوں کی خواہش تھی کہ ہم انجنیرنگ کی تعلیم حاصل کریں اور پھر مزید اعلٰٰی تعلیم کے حصول کے لیے ملک سے باہر جائیں اور ہم خود بھی یہی چاہتے تھے کہ صرف ایک ڈوربیل نے میری زندگی کا رخ بدل دیا میرے گھر کی ڈور بیل بجی میں نے باہر جاکر دیکھا تو دو تین حضرات کھڑے تھے کہنے لگے مسجد میں جماعت آئی ہوئی ہے آپ نماز کے لیے تشریف لائیے کچھھ دین کے بارے میں بات کریں گے، بعد نمازٍ مغرب بیان شروع ہوا میں اس شخص کو نہیں جانتا تھا جو بیان کر رہا تھا لیکن اسکا ایک ایک لفظ میرے دل میں اترتا جارہا تھا وہ کہہ رہا تھا ہم کیسے مسلمان ہیں جو اللہ کے رسول سے محبت کا دعوٰی کرتے ہیں اُن کے لیے جان قربان کرنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں مگر جو وہ چاہتے تھے وہ نہیں کرتے کسی کو اسلام کی طرف بلاؤ تو جواب ملتا ہے کہھ ہمیں مذہب نا سکھاؤ ہم بھی مسلمان ہیں جاؤ غیر مسلموں کو جاکر تبلیغ کرو، اُنھیں سمجھانا ہے کہہ اللہ کے نبی صرف عبادات کے بارے میں ہی حکم نہیں دیا ہے بلکہ ایک معاشرہ تشکیل دیا ہے ہمیں معاملات کے بارے میں سکھایا ہے کہ ایک مسلمان کو کیسا ہونا چاھیے اور ہم کیا ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔


      بیان ختم ہو گیا سب اُٹھھ کر چلے گئے میں تھوڑی دیر تووہیں کا وہیں بیٹھا رہ گیا پھر مردہ قدموں کے ساتھھ گھر کی طرف چل پڑا میرے دماغ میں مستقل یہی سوال گردش کر رہا تھا کہہ آخر اگر اللہ نے مجھے مسلمان بنایا ہے تو کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میرا دماغ اس کیوں کی تکرار کا کوئی بھی جواب دینے سے قاصر تھا اور آخر کار میں نے فیصلہ کیا کہ میں فقہ اور حدیث کی تعلیم حصل کروں گا اور جب میں نے گھر میں اس بارے میں ذکر کیا تو ایک لمحے کے لیے تو سب نے ایسے مجھے دیکھا جیسے اُنھیں میری دماغی صحت پر شبہ ہو کسی نے کہا کیا مولوی بننے کا ارادہ ہے تو کسی نے پاگل کہا تو کسی نے سمجھایا کہ مستقبل کو برباد نہ کرو تو کسی نے ڈرایا کہ آجکل کے حالات درست نہیں غرض کسی نے بھی تو مجھے سپورٹ نہیں کیا اور میرے والد نے فیصلہ کردیا کہ مجھے وہی کچھھ کرنا ہوگا جو وہ چاہیں گے اور وہی ہوا جو وہ چا ہتے تھے میں ایک لفظ نہیں بولا خاموشی کے ساتھھ انجینیرنگ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن اپنی انجینیرنگ کی پڑہائی مکمل کرنے کے بعد میں نے باہر جاکر مزید پڑہائی کرنے سے انکار کردیا اور مدرسہ میں داخلہ لے لیا میرا بھائی باہر چلا گیا لیکن اس فیصلے نے مجھے بہت تکلیف دی میرے گھر والوں نے میرا بائیکاٹ کردیا وہ وقت میں آج بھی یاد کرتا ہوں تو یہ سوچ کر میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کہ میری زباں سے نا سہی میرے فیصلے سے میرے ماں باپ کو ضرور تکلیف ہوئی ہوگی لیکن میں یہ پوری سچائی سے کہتا ہوں کہ میرے دل میں کسی کے لیئے کوئی گلہ نہیں میرے بھائی کے ہر ہر فیصلے میں جو اس دنیا کے فائدے کے لئے تھا اسے سراہا گیا میرا بھائی فرانس گیا تو خاندان کا ہر فرد اس کی غیر حاضری میں اس کی زمہ داری پوری کرنے کے لئے تیار تھا اور انھیں دنوں جب میں تبلیغ کے لیئے گیا تو میری مدد کرنا تو درکنار کسی نے یہ پوچھنے کی زحمت بھی نھیں کی کہ کسی چیز ضرورت تو نہیں۔۔۔۔۔میں نے اللہ کے راستے میں ہمیشہ یہ دعا کی کہ مجھے ثابت قدم رکھھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں اللہ کے راستے میں نکلا تو معلوم ہوا جب جب دنیا میں بگاڑ پیدا ہوا اللہ انھیں راہ راست پر لانے کے لئے نبی بھیجے جو لوگوں اللہ کی طرف بلاتے اور صحیح اور غلط کی پہچان کراتے اور جب لوگ اللہ کی طرف آجاتے تو اللہ اپنے نبی کو واپس بلا لیتا لیکن اپنے پیارے نبی کو واپس بلایا تو اپنی سنت بدل دی اب کوئی نبی نہیں آئے گا تو پھر اب دنیا میں جو بگاڑ پیدا ہورہا ہے اسے کون صحیح کرے گا تو یہ کام اللہ کے رسول اپنی اُمت کو دے گئے تو خود سوچو کہ جو اللہ کے نبی کا کام کرے ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے کن کا کام؟ جن کے روم روم میں اُمت کی محبت بھری تھی۔۔۔۔۔ وجیہہ صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ہیں۔۔۔۔۔۔وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئے اور دوبارہ بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے دیکھا ہے وہ وقت اور محسوس کی ہیں وہ تکالیف جو میرے آقا نے میرے لئے اُٹھائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


      وہ بتاتے جا رہے ہیں اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں سب کچھھ اپنی آنکھوں سے دیکھھ رہا ہوں وہ مجھے اللہ کے رسول کے طائف کے سفر کا احوال سنا رہے ہیں کہ کس طرح مشرکینٍ نے میرے آقا کو ازیت پہنچا ئیں میری خاطر آپ نے پتھروں کی چوٹ برداشت کی آج میں اُس ہر پتھر کی چوٹ اپنے جسم پر محسوس کر رہا ہوں جو اللہ کے نبی کے جسمِ مبارک پر پڑا ۔۔۔۔۔۔۔حضرت جبرائیل پہاڑوں کے فرشتے کو ساتھھ لائے ہیں مگر قربان جاؤں اپنے آقا کے کہ پھر بھی بد دعا نہ دی اور میں نے جواب میں کیا کیا ان پر ظلم کرنے والوں کے ہی ساتھھ کھڑا ہوگیا اور اللہ کے در کو چھوڑ کر اللہ اور اللہ کے رسول کے دشمنوں کے در کا بھکاری بن گیا میرا سر شرم سے جھکا ہوا ہے اور وہ اب مجھے آخری خطبہ کا احوال سنا رہے ہیں آئیے آپ بھی سنئیے۔



      نویں ذی الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد کا وقت ہے اللہ کے رسول مسلمانوں کے ساتھھ عرفات تشریف لے گئے ہیں یہ وہ دن ہے جب اسلام اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھھ نمودار ہوا ہے اور آج جاہلیت کے تمام بیہودہ رسوم مٹا دی گئی ہیں اور آپ فرما رہے ہیں،


      "ہاں جاہلیت کے تمام دستور میرے پاؤں کے نیچے ہیں"


      "لوگوں۔۔ ہاں بیشک تمھارا رب ایک ہےاور تمھارا باپ ایک ہے- ہاں عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سُرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سُرخ پر کوئی فضیلت نہیں-مگر تقوٰی کے سبب سے"


      "جاہلیت کے تمام خون باطل کردیے گئے اور سب سے پہلے میں ربیعہ ابنٍ حارث کے بیٹے کا خون باطل کرتا ہوں"


      " جاہلیت کے تمام سود باطل کردیے گئے اور سب سے پہلے اپنے خاندان عباس بن مطلب کا سود باطل کرتا ہوں"


      آج تکمیل کا دن ہے دین مکمل ہو چکا ہے اللہ کے رسول اللہ کا پیغام پہنچا چکے ہیں


      وہ فرما رہے ہیں"ہاں میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا، کہ خود ایک دوسرے کی گردن مارنےلگو،تم کو خدا کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا اور وہ تم سے تمھارے اعمال کی باز پرس کریگا"


      وجیہہ صاحب خاموش ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن اُن کی سسکیوں کی آواز میں بخوبی سن سکتا ہوں آنسو میری آنکھوں سے بھی رواں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پھر بول رہے ہیں آئیے سنتے ہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں سنا تم نے اللہ کے رسول اپنا پیغام پہنچا چکے ہیں تم نے سنا وہ کہہ رہے تھے نا کہہ میرے بعد گمراہ نا ہو جانا۔۔۔۔ لیکن میں گمراہ ہو گیا میں نے ہر اُس حکم کی نفی کی جسکا مجھے کہا گیا اللہ نے اختیار دیا تو فرعون بن گیا اپنی انا کی تسکین کی خاطر منطقم بن گیا اور معافی کا لفظ اپنی ڈکشنری سے نکال پھینکا اپنے ہی بھائیوں کے خون سے ہاتھھ رنگے اور معصوم کہلایا سود کی غلاظت میں لتھڑ کر بھی ایماندار رہا لوگوں میں بانٹنے کی بجائے دوسروں کا مال غصب کرتا رہا حالانکہ مجھے تو لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کا حکم تھا مجھے تو محبت بانٹنی تھی آخر ایسا کیوں ہے کہہ میں اگر اللہ کے نبی کا پیغام لوگوں تک پہنچاؤں تو میں بنیاد پرست چہرے پر اپنے نبی کی محبت میں داڑہی سجاؤں تو مولوی یا ملا کلمہِ حق بلند کروں تو دہشت گرد لیکن وہ جو فلسطین'افغانستان'عراق'لیبیا' کشمیر اور دنیا میں بیشمار معصوموں کے خون سے ہاتھھ رنگیں وہ امن کے داعی جو لوگوں کو موڈرانائیزیشن کے نام پر جہنم کی دعوت دیں وہ صحیح اور جو اللہ کی حاکمیت کی بات کریں غلط تمھیں معلوم ہے اس مملِکتِ خداداد میں ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں آج بھی قبروں پر سفید اور ہرے کپڑے باندہے جاتے ہیں ہرا رنگ اس بات کی نشانی کہ ان کی نمازِ جنازہ ہوچکی ہے اور سفید کا مطلب یہ کہ ان کی نمازِ جنازہ ابھی نہیں پڑھی گئی کوئی ایسا شخص جسے نمازِ جنازہ پڑھانی آتی ہو آئے گا تو اکھٹی سب کی پڑھادے گا۔۔۔۔۔تو کون سکھائے گا انھیں یہ سب یہ کس کی ذمہِ داری ہے کیا یہ میرا اور تمھارا کام نہیں، ہم نے سب کچھھ کیا اُن کی محبت میں جلوس نکالے نعتوں کی محافل منعقد کیں کسی نے آپ کی شان میں گستاخی کی تو بتادیا کہ ہم ان کی خاطر جان دے بھی سکتے ہیں اور لے بھی لیکن اُن کے احکامات پر عمل کرنا ہمارے لیئے مشکل ہے جن کی اپنی اُمت سے محبت کا یہ
      عالم تھا کہ دنیا سے پردہ فرماتے وقت بھی لبوں پر اُمتی اُمتی ہی رہا اور ہم نے اُن کے کام کو ہی اہمیت نہ دی اوریہ جو مجھے آج اللہ نے جو عزت دی ہے تو وہ اس کام کی بدولت ہے تو لوگ اسے اپنی ذمہ داری کیوں نہیں سمجھتے
      کون دے گا اس سوال کا جواب؟

      وہ خاموش ہو گئے ہیں اور میں سوچ رہا ہوں کہ میں نے جو اتنی ڈگریاں حاصل کی ہیں وہ تو کچھ بھی نھیں یہ تو میری موت کے ساتھھ ہی ختم ہوجائے گا اصل علم تو وجیہہ صاحب اور ان جیسے لوگوں کے پاس ہے جس بدولت اللہ نے انھیں دنیا میں بھی عزت دی ہے اور وہ انکے آخرت میں بھی درجات بلند کرنے میں کام آئے گا۔


      Similar Threads:
      Last edited by CaLmInG MeLoDy; 06-27-2014 at 07:15 PM.

    2. The Following User Says Thank You to Lost Passenger For This Useful Post:

      Aqibimtiaz786 (11-24-2016)

    3. #2
      Administrator Admin intelligent086's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Location
      لاہور،پاکستان
      Posts
      38,411
      Threads
      12102
      Thanks
      8,637
      Thanked 6,946 Times in 6,472 Posts
      Mentioned
      4324 Post(s)
      Tagged
      3289 Thread(s)
      Rep Power
      10

      Re: Kon De Ga Is Sawal Ka Jawab? (کون دے گا اس سوال کا جواب؟ )

      Quote Originally Posted by Lost Passenger View Post

      Assalam-o-Alaikum



      Kon De Ga IS Sawal Ka Jawab


      Based on a True Story



      Is tehreer ka kafi hissa ek sachi per mabni hey aur
      is ka kuch hissa mairi zair e takmeel kitab
      Woh(saww) Muntazir hai'n
      sey lia gaya hey






      کون دے گا اس سوال کا جواب؟


      میں آج تک نہیں سمجھھ سکا کہ وہ لوگ جو دین کو عملی طور پر اختیار کرتے ھیں ہم انہیں کم کیوں سمجھتے ہیں ہماری یہ کہانی بھی کچھھ ایسی ہی سوچ رکھنے والے لوگوں سے متعلق ہے۔


      میرا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ علوم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں مذہبی اور دنیاوی اور میں اس پیغام کا علمبردار رہا کہ اگر ترقی کرنا ہے تو پڑھو بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرو کہ آج کی دنیا میں بہت مقابلہ ہے مگر وجیہہ صاحب نے میرے سوچنے کا انداز بدل دیا کیسے آئیے آپ کو بھی بتاتے ہیں۔


      وجیہہ صاحب کو اللہ نے نا صرف ظاہری خوبصورتی عطا فرمائی تھی بلکہ بہت زبردست اخلاق سے بھی نوازا تھا نیچی آواز میں بات کرتے ہر کسی کے ساتھ عزت سے پیش آتے، اللہ نے اُنھیں بڑی عزت دی تھی لوگ اپنے یہاں اُنھیں مدعو کرنا اپنی عزت سمجھتے تھے مجھے حیرت تھی کہ کس طرح انھوں نے نا صرف دنیاوی علوم حاصل کئیے بلکہ دینی علم بھی حاصل کیا ایک بار میں نے پوچھا تو کہنے لگے "علوم تو سارے ھی اللہ کے پیدا کردہ ہیں ان میں سے کچھ ہمیں ہمارے معاش کے حصول میں مدد گار ہوتے ہیں تو وہ علوم جنھیں عام طور پرلوگ صرف مذہب تک محدود کر دیتے ہیں حالانکہ یہ ہی وہ علم ہے جو ہمیں صحیح معنوں میں نا صرف ایک اچھا انسان بناتا ہے بلکہ دنیا میں ایک کامیاب زندگی گذارنے کا سبق دیتے ہوئے آخرت کی زندگی کی کامیابی کی ضمانت بھی دیتا ہے"، صبح پابندی سے تہجد کی ادائیگی کرتے اور اُس کے بعد تلاوت اور اکثر دورانِ تلاوت میں نے اُن کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھے ہیں۔۔۔۔ لیکن آج تواُن کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے میں اُن کے نزدیک کھڑا ہوگیا ہوں ؤہ سورہ لقمان کی ان آیات کوبار بار دہرا رہے ہیں اور روتے جارہے ہیں،


      وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِه وَهُوَ يَعِظُه يٰبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ 13 ؀


      اور جب کہ لقمان نے وعظ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا (١) بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔ (۲)


      وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّه وَهْنًا عَلٰي وَهْنٍ وَّفِصٰلُه فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14؀


      ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی (١) ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر (٢) اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے (٣) کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔


      وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِه عِلْمٌ ۙفَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا ۡ وَّاتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 15؀


      اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راہ چلنا جو میری طرف جھکا ہو (١) تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کردوں گا۔


      يٰبُنَيَّ اِنَّهَآ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِيْ صَخْـرَةٍ اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ اَوْ فِي الْاَرْضِ يَاْتِ بِهَا اللّٰهُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ 16؀


      پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو (١) پھر وہ (بھی) خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور لائے گا اللہ تعا لیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔


      يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلٰي مَآ اَصَابَكَ ۭ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ 17۝ۚ


      اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آئے صبر کرنا (١) (یقین مان) کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے (٢)


      وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ 18؀ۚ


      لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا (١) اور زمین پر اکڑ کر نہ چل (٢) کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔


      وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ 19؀ۧ


      اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر (١) اور اپنی آواز پست کر (٢) یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے۔


      میں نے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا حضرت خیریت ہے بولے ہاں سب خیر ہے میں نے کہا نہیں کچھ بات تو ہے بولے میں جب بھی ان آیات پر آتا ہوں میری یہی حالت ہوتی ہے میں نے پوچھا کیوں تو بولے مجھے اپنا ماضی یاد آتا ہے اور پھر اپنی ذمہ داری یاد آتی ہے تو اپنی کوتاہیوں پر اللہ کے حضور سوائے ندامت آنسو بہانے کے اور کیا رستہ رہ جاتا ہے، میں ان کے پاس بیٹھھ گیا ہوں اور آج وہ ناجانے کس رو میں مجھے اپنی زندگی کا وہ رخ دکھا رہے ہیں جو میں ہمیشہ سے جاننا چھاتا تھا آئیے اُنہی کی زبانی سنتے ھیں،


      "میں نے ایک دین دار گھرانے میں جنم لیا دین دار سے میری مراد یہ ہے کہ ہمارے یہاں نماز روزے کی پابندی کی جاتی ہے اور ہمارا گھرانہ بھی اُنہی بےشمار مسلمان گھرانوں کی طرح ہے جن کا اسلام صرف اُن عبادات تک محدود ہے جو اُس کی ذات تک محدود ہوتی ہیں، میرا انٹر کا رزلٹ آیا تھا میں نے 86% مارکس حاصل کیے تھے اور میرے بھائی نے بھی 80% سے زیادہ مارکس حاصل کیئےتھے میرے والد اور گھر والوں کی خواہش تھی کہ ہم انجنیرنگ کی تعلیم حاصل کریں اور پھر مزید اعلٰٰی تعلیم کے حصول کے لیے ملک سے باہر جائیں اور ہم خود بھی یہی چاہتے تھے کہ صرف ایک ڈوربیل نے میری زندگی کا رخ بدل دیا میرے گھر کی ڈور بیل بجی میں نے باہر جاکر دیکھا تو دو تین حضرات کھڑے تھے کہنے لگے مسجد میں جماعت آئی ہوئی ہے آپ نماز کے لیے تشریف لائیے کچھھ دین کے بارے میں بات کریں گے، بعد نمازٍ مغرب بیان شروع ہوا میں اس شخص کو نہیں جانتا تھا جو بیان کر رہا تھا لیکن اسکا ایک ایک لفظ میرے دل میں اترتا جارہا تھا وہ کہہ رہا تھا ہم کیسے مسلمان ہیں جو اللہ کے رسول سے محبت کا دعوٰی کرتے ہیں اُن کے لیے جان قربان کرنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں مگر جو وہ چاہتے تھے وہ نہیں کرتے کسی کو اسلام کی طرف بلاؤ تو جواب ملتا ہے کہھ ہمیں مذہب نا سکھاؤ ہم بھی مسلمان ہیں جاؤ غیر مسلموں کو جاکر تبلیغ کرو، اُنھیں سمجھانا ہے کہہ اللہ کے نبی صرف عبادات کے بارے میں ہی حکم نہیں دیا ہے بلکہ ایک معاشرہ تشکیل دیا ہے ہمیں معاملات کے بارے میں سکھایا ہے کہ ایک مسلمان کو کیسا ہونا چاھیے اور ہم کیا ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔


      بیان ختم ہو گیا سب اُٹھھ کر چلے گئے میں تھوڑی دیر تووہیں کا وہیں بیٹھا رہ گیا پھر مردہ قدموں کے ساتھھ گھر کی طرف چل پڑا میرے دماغ میں مستقل یہی سوال گردش کر رہا تھا کہہ آخر اگر اللہ نے مجھے مسلمان بنایا ہے تو کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میرا دماغ اس کیوں کی تکرار کا کوئی بھی جواب دینے سے قاصر تھا اور آخر کار میں نے فیصلہ کیا کہ میں فقہ اور حدیث کی تعلیم حصل کروں گا اور جب میں نے گھر میں اس بارے میں ذکر کیا تو ایک لمحے کے لیے تو سب نے ایسے مجھے دیکھا جیسے اُنھیں میری دماغی صحت پر شبہ ہو کسی نے کہا کیا مولوی بننے کا ارادہ ہے تو کسی نے پاگل کہا تو کسی نے سمجھایا کہ مستقبل کو برباد نہ کرو تو کسی نے ڈرایا کہ آجکل کے حالات درست نہیں غرض کسی نے بھی تو مجھے سپورٹ نہیں کیا اور میرے والد نے فیصلہ کردیا کہ مجھے وہی کچھھ کرنا ہوگا جو وہ چاہیں گے اور وہی ہوا جو وہ چا ہتے تھے میں ایک لفظ نہیں بولا خاموشی کے ساتھھ انجینیرنگ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن اپنی انجینیرنگ کی پڑہائی مکمل کرنے کے بعد میں نے باہر جاکر مزید پڑہائی کرنے سے انکار کردیا اور مدرسہ میں داخلہ لے لیا میرا بھائی باہر چلا گیا لیکن اس فیصلے نے مجھے بہت تکلیف دی میرے گھر والوں نے میرا بائیکاٹ کردیا وہ وقت میں آج بھی یاد کرتا ہوں تو یہ سوچ کر میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کہ میری زباں سے نا سہی میرے فیصلے سے میرے ماں باپ کو ضرور تکلیف ہوئی ہوگی لیکن میں یہ پوری سچائی سے کہتا ہوں کہ میرے دل میں کسی کے لیئے کوئی گلہ نہیں میرے بھائی کے ہر ہر فیصلے میں جو اس دنیا کے فائدے کے لئے تھا اسے سراہا گیا میرا بھائی فرانس گیا تو خاندان کا ہر فرد اس کی غیر حاضری میں اس کی زمہ داری پوری کرنے کے لئے تیار تھا اور انھیں دنوں جب میں تبلیغ کے لیئے گیا تو میری مدد کرنا تو درکنار کسی نے یہ پوچھنے کی زحمت بھی نھیں کی کہ کسی چیز ضرورت تو نہیں۔۔۔۔۔میں نے اللہ کے راستے میں ہمیشہ یہ دعا کی کہ مجھے ثابت قدم رکھھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں اللہ کے راستے میں نکلا تو معلوم ہوا جب جب دنیا میں بگاڑ پیدا ہوا اللہ انھیں راہ راست پر لانے کے لئے نبی بھیجے جو لوگوں اللہ کی طرف بلاتے اور صحیح اور غلط کی پہچان کراتے اور جب لوگ اللہ کی طرف آجاتے تو اللہ اپنے نبی کو واپس بلا لیتا لیکن اپنے پیارے نبی کو واپس بلایا تو اپنی سنت بدل دی اب کوئی نبی نہیں آئے گا تو پھر اب دنیا میں جو بگاڑ پیدا ہورہا ہے اسے کون صحیح کرے گا تو یہ کام اللہ کے رسول اپنی اُمت کو دے گئے تو خود سوچو کہ جو اللہ کے نبی کا کام کرے ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے کن کا کام؟ جن کے روم روم میں اُمت کی محبت بھری تھی۔۔۔۔۔ وجیہہ صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ہیں۔۔۔۔۔۔وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئے اور دوبارہ بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے دیکھا ہے وہ وقت اور محسوس کی ہیں وہ تکالیف جو میرے آقا نے میرے لئے اُٹھائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


      وہ بتاتے جا رہے ہیں اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں سب کچھھ اپنی آنکھوں سے دیکھھ رہا ہوں وہ مجھے اللہ کے رسول کے طائف کے سفر کا احوال سنا رہے ہیں کہ کس طرح مشرکینٍ نے میرے آقا کو ازیت پہنچا ئیں میری خاطر آپ نے پتھروں کی چوٹ برداشت کی آج میں اُس ہر پتھر کی چوٹ اپنے جسم پر محسوس کر رہا ہوں جو اللہ کے نبی کے جسمِ مبارک پر پڑا ۔۔۔۔۔۔۔حضرت جبرائیل پہاڑوں کے فرشتے کو ساتھھ لائے ہیں مگر قربان جاؤں اپنے آقا کے کہ پھر بھی بد دعا نہ دی اور میں نے جواب میں کیا کیا ان پر ظلم کرنے والوں کے ہی ساتھھ کھڑا ہوگیا اور اللہ کے در کو چھوڑ کر اللہ اور اللہ کے رسول کے دشمنوں کے در کا بھکاری بن گیا میرا سر شرم سے جھکا ہوا ہے اور وہ اب مجھے آخری خطبہ کا احوال سنا رہے ہیں آئیے آپ بھی سنئیے۔



      نویں ذی الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد کا وقت ہے اللہ کے رسول مسلمانوں کے ساتھھ عرفات تشریف لے گئے ہیں یہ وہ دن ہے جب اسلام اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھھ نمودار ہوا ہے اور آج جاہلیت کے تمام بیہودہ رسوم مٹا دی گئی ہیں اور آپ فرما رہے ہیں،


      "ہاں جاہلیت کے تمام دستور میرے پاؤں کے نیچے ہیں"


      "لوگوں۔۔ ہاں بیشک تمھارا رب ایک ہےاور تمھارا باپ ایک ہے- ہاں عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سُرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سُرخ پر کوئی فضیلت نہیں-مگر تقوٰی کے سبب سے"


      "جاہلیت کے تمام خون باطل کردیے گئے اور سب سے پہلے میں ربیعہ ابنٍ حارث کے بیٹے کا خون باطل کرتا ہوں"


      " جاہلیت کے تمام سود باطل کردیے گئے اور سب سے پہلے اپنے خاندان عباس بن مطلب کا سود باطل کرتا ہوں"


      آج تکمیل کا دن ہے دین مکمل ہو چکا ہے اللہ کے رسول اللہ کا پیغام پہنچا چکے ہیں


      وہ فرما رہے ہیں"ہاں میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا، کہ خود ایک دوسرے کی گردن مارنےلگو،تم کو خدا کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا اور وہ تم سے تمھارے اعمال کی باز پرس کریگا"


      وجیہہ صاحب خاموش ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن اُن کی سسکیوں کی آواز میں بخوبی سن سکتا ہوں آنسو میری آنکھوں سے بھی رواں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پھر بول رہے ہیں آئیے سنتے ہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں سنا تم نے اللہ کے رسول اپنا پیغام پہنچا چکے ہیں تم نے سنا وہ کہہ رہے تھے نا کہہ میرے بعد گمراہ نا ہو جانا۔۔۔۔ لیکن میں گمراہ ہو گیا میں نے ہر اُس حکم کی نفی کی جسکا مجھے کہا گیا اللہ نے اختیار دیا تو فرعون بن گیا اپنی انا کی تسکین کی خاطر منطقم بن گیا اور معافی کا لفظ اپنی ڈکشنری سے نکال پھینکا اپنے ہی بھائیوں کے خون سے ہاتھھ رنگے اور معصوم کہلایا سود کی غلاظت میں لتھڑ کر بھی ایماندار رہا لوگوں میں بانٹنے کی بجائے دوسروں کا مال غصب کرتا رہا حالانکہ مجھے تو لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کا حکم تھا مجھے تو محبت بانٹنی تھی آخر ایسا کیوں ہے کہہ میں اگر اللہ کے نبی کا پیغام لوگوں تک پہنچاؤں تو میں بنیاد پرست چہرے پر اپنے نبی کی محبت میں داڑہی سجاؤں تو مولوی یا ملا کلمہِ حق بلند کروں تو دہشت گرد لیکن وہ جو فلسطین'افغانستان'عراق'لیبیا' کشمیر اور دنیا میں بیشمار معصوموں کے خون سے ہاتھھ رنگیں وہ امن کے داعی جو لوگوں کو موڈرانائیزیشن کے نام پر جہنم کی دعوت دیں وہ صحیح اور جو اللہ کی حاکمیت کی بات کریں غلط تمھیں معلوم ہے اس مملِکتِ خداداد میں ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں آج بھی قبروں پر سفید اور ہرے کپڑے باندہے جاتے ہیں ہرا رنگ اس بات کی نشانی کہ ان کی نمازِ جنازہ ہوچکی ہے اور سفید کا مطلب یہ کہ ان کی نمازِ جنازہ ابھی نہیں پڑھی گئی کوئی ایسا شخص جسے نمازِ جنازہ پڑھانی آتی ہو آئے گا تو اکھٹی سب کی پڑھادے گا۔۔۔۔۔تو کون سکھائے گا انھیں یہ سب یہ کس کی ذمہِ داری ہے کیا یہ میرا اور تمھارا کام نہیں، ہم نے سب کچھھ کیا اُن کی محبت میں جلوس نکالے نعتوں کی محافل منعقد کیں کسی نے آپ کی شان میں گستاخی کی تو بتادیا کہ ہم ان کی خاطر جان دے بھی سکتے ہیں اور لے بھی لیکن اُن کے احکامات پر عمل کرنا ہمارے لیئے مشکل ہے جن کی اپنی اُمت سے محبت کا یہ
      عالم تھا کہ دنیا سے پردہ فرماتے وقت بھی لبوں پر اُمتی اُمتی ہی رہا اور ہم نے اُن کے کام کو ہی اہمیت نہ دی اوریہ جو مجھے آج اللہ نے جو عزت دی ہے تو وہ اس کام کی بدولت ہے تو لوگ اسے اپنی ذمہ داری کیوں نہیں سمجھتے
      کون دے گا اس سوال کا جواب؟

      وہ خاموش ہو گئے ہیں اور میں سوچ رہا ہوں کہ میں نے جو اتنی ڈگریاں حاصل کی ہیں وہ تو کچھ بھی نھیں یہ تو میری موت کے ساتھھ ہی ختم ہوجائے گا اصل علم تو وجیہہ صاحب اور ان جیسے لوگوں کے پاس ہے جس بدولت اللہ نے انھیں دنیا میں بھی عزت دی ہے اور وہ انکے آخرت میں بھی درجات بلند کرنے میں کام آئے گا۔
      وعلیکم اسلام






    4. #3
      ...."I don't need your attitude. I've my own"..... www.urdutehzeb.com/public_htmlwww.urdutehzeb.com/public_html Arosa Hya's Avatar
      Join Date
      Apr 2014
      Location
      Peace
      Posts
      5,286
      Threads
      972
      Thanks
      965
      Thanked 827 Times in 507 Posts
      Mentioned
      518 Post(s)
      Tagged
      6978 Thread(s)
      Rep Power
      237

      Re: Kon De Ga Is Sawal Ka Jawab? (کون دے گا اس سوال کا جواب؟ )

      speechless


    + Reply to Thread
    + Post New Thread

    Thread Information

    Users Browsing this Thread

    There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

    Visitors found this page by searching for:

    Nobody landed on this page from a search engine, yet!
    SEO Blog

    User Tag List

    Posting Permissions

    • You may not post new threads
    • You may not post replies
    • You may not post attachments
    • You may not edit your posts
    •