ھمیں ماتھے پہ بوسا دو

کبھی ھم خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی خوشبو کی مانند سانس ساکن تھی
بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے
جو ھم سے دور تھے لیکن
ہمارے پاس رہتے تھے
نئے دن کی مسافت جب کرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی
تو ھم کہتے تھے
امی۔۔۔۔۔۔ تتلیوں کے پر بہت ہی خوبصورت ھیں
ھمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے
جگنوؤں کے
دیس جانا ھے
ھمیں رنگوں کے جگنو
روشنی کی تتلیاں
آواز دیتی ھیں
نئے دن کی مسافت
رنگ میں ڈوبی ھوا کے ساتھ
کھڑکی سے بلاتی ھے
ھمیں ماتھے پہ بوسا دو
کبھی ھم خوبصورت تھے