SHAREHOLIC
  • You have 1 new Private Message Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out this form.

    + Reply to Thread
    + Post New Thread
    Results 1 to 3 of 3

    Thread: اقتدار کی ہڈی اقتدار کی ہڈی 08 دسمبر 2014

    1. #1
      Administrator Admin intelligent086's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Location
      لاہور،پاکستان
      Posts
      38,412
      Threads
      12102
      Thanks
      8,639
      Thanked 6,948 Times in 6,474 Posts
      Mentioned
      4324 Post(s)
      Tagged
      3289 Thread(s)
      Rep Power
      10

      اقتدار کی ہڈی اقتدار کی ہڈی 08 دسمبر 2014


      ہمارے سیاستدانوں کو تو بس اقتدار کی ہڈی ملنی چاہئے۔ اختیار کے گوشت سے ان کو کیا غرض۔ اس ملک کے آئین اور عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم کی انہیں کیا پروا۔ یہ اپنے آباو اجداد کی لاشوں کی تحقیق پر اقتدار میں آنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عام شہریوں کے قاتلوں کی تلاش تو دور کی بات یہ اپنے والدین، بھائی یا بیوی کے قاتلوں تک کو اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی نہیں پکڑ سکتے۔ فوج سے ڈرتے ہیں اور عوام کو ڈراتے ہیں۔ یہ اقتدار سے گھسیٹ کر نکالے جانے کے مستحق ہیں۔ان کو آئین اور جمہوریت سے زیادہ اربوں ڈالروں کے ٹھیکوں سے دلچسپی ہے۔ ان کے نزدیک پانچ سال کی مدت پوری کرنا اور آئین سے سنگین غداری کے ملزموں کیخلاف بے بسی اور بزدلی بہترین جمہوریت ہے۔ انہیں کیا فرق پڑتا ہے کہ ایک فوجی آمر کیخلاف دائر کردہ غداری کا مقدمہ عدالت کی جانب سے ان کے منہ پر مار دیا جائے۔ تین نومبر دو ہزار سات کے غیر آئینی فرمان اور اس کو آئین سے سنگین غداری قرار دینے والے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود زرداری حکومت پانچ سال مجرمانہ خاموشی کا شکار رہی اور نوازشریف حکومت نے جب زباں کھولی بھی تو شیر کی مانند دھاڑنے کی بجائے بکری کی مانند منمنا دی۔ اوپر سے کپتان عمران خان نے سابق چیف جسٹس کو اتنا بدنام کردیا کہ مشرف مظلوم اور افتخار چودھری ظالم دکھائی دینے لگا۔ نوازشریف حکومت نے بھی پرویز مشرف کو سنگین غداری کے جرم میں عمرقید یا پھانسی دلوانے کیلئے استغاثہ کا ایسا وکیل چنا جس کی ساری عمر فوج کے قانونی دفاع میں گزری جیسا کہ میمو کمیشن اور اصغر خان کیس کی کارروائیوں سے ظاہر ہے۔ حکومت کی نیت شروع دن سے آشکار تھی وہ جرم جو ٹی وی سکرینوں پر ساری دنیا کی نظروں کے سامنے ہوا، اسے ثابت کرنے کیلئے تمام مقتدر کرداروں نے اتنا طویل ڈرامہ رچایا کہ لوگ مایوس ہوگئے۔ یہ وہی سنگین غداری کے ملزم ہیں جو بغاوت کے بعد منتخب وزیراعظم کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالتے دیر نہیں لگاتے۔ یہ وہی عدالتیں ہیں جو منتخب وزیراعظم کو طیارے کے اغواءکا مرتکب قرار دے کر عمر قید کی سزا سناتی ہیں۔ یہ وہی حکمران ہیں جو وکیلوں کے کندھوں پر بیٹھ کر آئین کے دفاع کا نعرہ لگا کر فوجی آمر کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ وہی وکلاءہیں جو انتخابات چوری کرنے والے فوج کے سابق سربراہ کا فی سبیل اللہ دفاع کرتے ہیں۔خصوصی عدالت کے تازہ ترین فیصلے پر ایک حکومتی قانونی سمری کو میڈیا میں بذریعہ ذرائع چھپوا کر قانونی پیچیدگیوں کا جعلی عکس ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اس سمری میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ چونکہ سنگین غداری کا جرم قابلِ دست اندازی پولیس نہیں اس لئے مشرف کو اس سنگین جرم میں گرفتار تک نہیں کیا گیا۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ عام شہری ڈبل سواری کے جرم میں آٹھ آٹھ دن جیل میں رکھے جاتے ہیں مگر اسی ملک میں آئین اور جمہوریت پر سواری کرنے والا فوجی آمر ایک شاہانہ زندگی گزارے جس کی دلیل یہ دی جائے کہ آئین سے سنگین غداری قابل دست اندازی جرم نہیں اور پھر یہ کہنا کہ قانون کے تحت صرف حکومت ہی غداری کے ملزم کیخلاف کارروائی کا حکم دے سکتی ہے کتنا منطقی ہوگا کہ جب کسی بغاوت کے نتیجے میں حکومت ہی نہ رہے تو پھر ہماری حکومتیں سرے پیلس یا سرور پیلس میں بیٹھ کر تو فوجی آمروں کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے تو رہیں۔ ماتم ہے ایسے قانون سازوں اور اس قانون کی تشریح کرنے والوں پر۔ ویسے بھی آئین اور ملکی دفاع سے نواز حکومت کی محبت وزارت قانون اور وزارت دفاع کے جزوقتی وزیروں کی تعیناتی سے عیاں ہے اور پھر یہ شیر مارکہ حکومت خصوصی عدالت میں ایک سرکاری ملازم سے شکایت جمع کروا کر کہتی ہے کہ عدالت چاہے تو مشرف کو چھوڑ دے۔ کہاں گئی جمہوریت پسند سیاسی جماعتیں جو ایسے فوجی آمر کیخلاف نعرے مارتے نہیں تھکتی تھیں مگر اقتدار کی ہڈی بھی بڑی شے ہے۔ مشرف کیخلاف اس مقدمے میں سرکاری ملازمین شکایت کنندہ بھی ہیں اور گواہان بھی۔ اس کے علاوہ ایک سرکاری وکیل اور سرکار کے پیسے پر موڈ بنانے والی قانونی ٹیم۔ جب سب کچھ سرکاری ملازمین اور سرکار کے پیسے پر چھوڑ دیا گیا ہے تو اسے کاغذی کارروائی نہیں تو اور کیا کہیں۔ تو پھر تیر مارکہ سیاستدان اور شیر مارکہ حکمران کس بات پر گھمنڈ کرتے ہیں۔ لوگوں کو بیوقوف کیوں بنایا جارہا ہے؟ سیاستدانوں کو اقتدار کی چانپیں، وکلاءکو سرکاری مقدمات کی رانیں، سول سوسائٹی کو غیر ملکی فنڈز کی کلیجی اور شہریوں کو دھرنوں کی اوجڑی ڈال دی گئی ہے۔سب اپنی اپنی جگہ مصروف ہوگئے ہیں جب آئین اور قانون کو مصنوعی جنبش دی جائے تو یہی کچھ ہوتا ہے۔ انصاف میں تاخیر ہونے سے ظالم کو مظلوم بننے میں دیر نہیں لگتی۔ تین نومبر دو ہزار سات کو جنرل مشرف کے آئین پر سنگین حملے کے مناظر ہماری آنکھوں سے دھندلاتے جارہے ہیں اور یہ سب کچھ ہمارے ملک میں پہلی بار نہیں ہورہا۔ وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل، ایوب خان کا مارشل لائ، فاطمہ جناح کے ساتھ کی گئی انتخابی دھاندلی، جنرل یحیٰ کا اقتدار پر قبضہ، انیس سو اکہتر میں ملک کا ٹوٹ جانا، جنرل ضیاءکا مارشل لاء، ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل، اوجڑی کیمپ دھماکوں میں تیرہ سو سے زائد افراد کی موت، جنرل ضیاءالحق کی طیارے کے حادثے میں ہلاکت،90 میں آئی ایس آئی کا انتخابی ڈاکہ، انیس سو چھیانوے میں وزیراعظم بینظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضی بھٹو کا قتل، انیس 98 میں جنرل مشرف کا کارگل آپریشن، 99 میں جنرل مشرف کی فوجی بغاوت، تین نومبر دو ہزار سات کو جنرل مشرف کی دوسری بغاوت پھر دسمبر دو ہزار سات میں بینظیر بھٹو کا قتل، دو ہزار گیارہ میں ایبٹ آباد پر امریکی حملہ اور مخفی عدالتی کمیشن رپورٹ، دو ہزار گیارہ میں ہی میمو سکینڈل کا انکشاف اور دو ہزار چودہ میں حامد میر پر قاتلانہ حملہ اور لاپتہ افراد کی عدالتی کمیشن رپورٹ یہ سب کچھ ہماری تاریخ کا حصہ ہے جو ہمارے ذہن اور نظروں سے دھندلاتا جارہا ہے۔ یقینا ہمارے بزرگوں کی نظروں کے سامنے پاکستان کا ٹوٹنا بھی دھندلا گیا تھا شائد یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے سانحہ کا کوئی مجرم آج تک کٹہرے میں نہیں دیکھا گیا۔ ایسے میں مشرف کیخلاف سنگین غداری کا مقدمہ لٹک جائے تو کوئی حیرانگی کی بات کیوں ہوگی مگر ڈر اس وقت سے لگتا ہے کہ کہیں ہماری بے حسی اور بزدلی کی ان روایات کے باعث ہمارے ادارے اور یہ ملک بھی کہیں دھندلا نہ جائے۔ ہم کس کو الزام دیں گے؟ کس سے تحقیقات کا مطالبہ کریں گے؟ اور پھر ہم ہونگے تو الزام دیں گے نا! مگر شائد اقتدار کے پجاری اور نوکری باز بیوروکریٹ اور چند منصف پھر بھی ہوں گے۔ ہمارے کچھ سیاستدان ایک نیا یوم آزادی ایک نئے جھنڈے کے ساتھ منائیں گے۔ کوئی قاف کا درزی قینچی کی سیاست کرے گا۔ کوئی نون کا نانبائی اقتدار کی روٹیاں لگائے گا تو کوئی طاقت کا کماندار تب بھی اندھیروں میں تیر چلا رہا ہوگا۔ اسی طرح کچھ بابو لوگ چند پیرزادوں ، حامدوں، قیوموں، ظفروں، بروہیوں، نورانیوں کے قانونی تعویزوں کے ساتھ ایک نیا عبوری آئین تیار کررہے ہوں گے۔ کچھ بعید نہیں کہ چند قاضی صاحبان نئے آئین کا نئے طریقے سے دفاع کرنے کی ازسرنو قسمیں کھانے کیلئے ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے کے منتظر ہوں گے۔ کچھ ایسے بھی پیر ہوں گے جو انگریز کے عطا کردہ اپنے بزرگوں کے تمغے پالش کرکے اپنے سینے پر سجا رہے ہوں گے۔ کچھ شریف ہوں گے اور کچھ جونیجو۔المیہ تو یہ ہوگا کہ جب اخبارات میں اور ٹی وی چینلوں پر بیٹھے بوٹ پالشئے اپنے نئے آقاوں سے یہ کہہ رہے ہوں گے کہ "بہت دیر کی مہرباں آتے آتے" یا پھر آپ نے اس قوم کو صحیح معنوں میں آزادی اور جمہوریت عطا کی۔ آج جب ہم سب لکھ سکتے ہیں اور بول سکتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ ہمارا یہ ملک دنیا کے نقشے سے دھندلا گیا تو اس کے ذمہ دار وہ سب سیاستدان، جرنیل، جج، وکلائ، صحافی اور بابو لوگ ہوں گے جنہوں نے آئین اور ملک سے غداری کرنے والوں کے حق میں بیانات، دھمکیاں، فیصلے، دلائل، تجزیئے اور سمریاں دیں۔ اگر آج یہ لوگ اپنی آنکھیں بند بھی کرلیں تو مورخ اپنی آنکھیں بند نہیں کرے گا کیونکہ وہ ہم میں سے نہیں ہوگا۔ جنرل مشرف کیخلاف قانونی کارروائی بے نتیجہ رہی تو اس حکومت، اس پارلیمنٹ اور اس عدلیہ سمیت تمام اداروں اور جمہوریت کیلئے شرم کا مقام ہوگا اور ایسے میں ہم کس منہ سے گلو بٹ کو گیارہ سال قید کی سزا کو عدلیہ کی آزادی سے تشبیہہ دیں گے۔ اگر بے بسی اور بزدلی اتنی ہی ہے تو پھر تمام ادارے کسی خفیہ ملاقات میں جنرل مشرف کے پاوں پکڑ لیں اور انہیں تین نومبر کے غیر آئینی فرمان پر صرف اظہار شرمندگی کیلئے ہی راضی کرلیں۔ اگر یہ بھی نہیں ہوسکتا تو ایک غیرت مند منتخب حکومت کو اقتدار کی ہڈی اگل دینی چاہئے۔



      Similar Threads:

    2. The Following User Says Thank You to intelligent086 For This Useful Post:

      Moona (03-22-2016)

    3. #2
      Vip www.urdutehzeb.com/public_html Moona's Avatar
      Join Date
      Feb 2016
      Location
      Lahore , Pakistan
      Posts
      6,209
      Threads
      0
      Thanks
      7,147
      Thanked 4,115 Times in 4,007 Posts
      Mentioned
      652 Post(s)
      Tagged
      176 Thread(s)
      Rep Power
      11

      Re: اقتدار کی ہڈی اقتدار کی ہڈی 08 دسمبر 2014



      @intelligent086 Thanks 4 informative sharing


      Politician are the same all over. They promise to bild a bridge even where there is no river.
      Nikita Khurshchev

    4. The Following User Says Thank You to Moona For This Useful Post:

      intelligent086 (03-23-2016)

    5. #3
      Administrator Admin intelligent086's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Location
      لاہور،پاکستان
      Posts
      38,412
      Threads
      12102
      Thanks
      8,639
      Thanked 6,948 Times in 6,474 Posts
      Mentioned
      4324 Post(s)
      Tagged
      3289 Thread(s)
      Rep Power
      10

      Re: اقتدار کی ہڈی اقتدار کی ہڈی 08 دسمبر 2014

      Quote Originally Posted by Moona View Post


      @intelligent086 Thanks 4 informative sharing





      کہتے ہیں فرشتے کہ دل آویز ہے مومن
      حوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن

    + Reply to Thread
    + Post New Thread

    Thread Information

    Users Browsing this Thread

    There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

    Visitors found this page by searching for:

    Nobody landed on this page from a search engine, yet!
    SEO Blog

    User Tag List

    Posting Permissions

    • You may not post new threads
    • You may not post replies
    • You may not post attachments
    • You may not edit your posts
    •